ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ایران کے خلاف جاری امریکی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال قابو میں نہ آئی تو اس کے علاقائی اور عالمی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
دارالحکومت انقرہ میں حکمران جماعت Justice and Development Party کے مرکزی دفتر میں افطار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں کی جانے والی کارروائیاں خطے میں کشیدگی بڑھا رہی ہیں اور اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاری جھڑپوں کو فوری طور پر روکنا ناگزیر ہے، بصورت دیگر یہ تنازع پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی امن کا داعی ہے اور خونریزی کے فوری خاتمے کا خواہاں ہے۔
صدر اردوان نے زور دیا کہ خطہ ایک طویل عرصے سے پائیدار استحکام کا منتظر ہے اور مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ترکی جنگ بندی کے قیام اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے ہر سطح پر سفارتی کوششیں تیز کرے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکی کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور علاقائی امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔