امریکی فوج نے بگرام ہوائی اڈہ رات کی تاریکی میں خاموشی سے خالی کر دیا تھا۔
امریکی فوج نے روانگی کے وقت ہوائی اڈے کی روشنیاں بند کیں جب کہ اس حوالے سے نئے افغان کمانڈر کو آگاہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔
افغان فوجی حکام نے بتایا کہ ہوائی اڈے کے نئے کمانڈر کو امریکی افواج کی روانگی کا 2 گھنٹے بعد علم ہوا۔
بگرام ہوائی اڈے کے نئے افغان کمانڈر جنرل میر اسداللہ کوہستانی نےخبرکی تصدیق کرتے ہوئے امریکی خبر رساں ادارے بتایا کہ جب ہم نےسنا کہ امریکی فوج نے بگرام ہوائی اڈہ خالی کردیا ہے تو ہم اسے افواہ سمجھے لیکن صبح 7 بجےکےقریب معلوم ہوا کہ امریکی فوجی واقعی جاچکی ہے۔
افغان فوجی حکام کا کہنا ہےکہ امریکی فوج کے بگرام ہوائی اڈہ چھوڑنے کے بعد وہاں مسلح افراد نے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی، اگرامریکی اہلکارہوائی اڈہ خالی کرنے سے پہلے بتاتے تو لوٹ مار سے اڈے کو بچا یاجاسکتا تھا۔
کابل میں صرف 650 امریکی فوجی سفارت خانے کی حفاظت کے لیے رہ گئے، مکمل انخلا اگست میں ہو گا۔ فضائی آپریشن اب امارات، قطر یا بحری بیڑے سے کیے جائیں گے، مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں نے مل کر بہت سی جنگیں جیتیں لیکن افغان جنگ ہار گئے۔
