ابولو شہر
2013 ء میں ترکی میں آنے کے بعد آنے والے پہلے سال کی تعطیلات میں پاکستان چلا گیا تھا۔ انہی دنوں میں نے فیصلہ کیا کہ اگلے سال کی تعطیلات ترکی میں ہی گزاروں گا۔ چنانچہ 2015ء کی تعطیلات کے ایام ترکی میں ہی گزارے۔ انہی دنوں اگست کے مہینہ میں ترکی کے باہر بسے ہوئے شہریوں اور متعلقہ کمیٹیوں کی وزارت[1] کی جانب سے سات روزہ درس و تدریس کے پروگرام کا اعلان کیا گیا۔ چنانچہ موقع کو غنیمت جان کر میں نے بھی اپنی درخواست متعلقہ وزارت کو بھیج دی۔ اثبات میں جواب آنے کے بعد 15اگست 2015ء کے دن شام 19:30 بجے میڑو کمپنی کی بس سے قونیہ سے بولو شہر جہاں یہ سمر کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا روانہ ہو گیا۔ قونیہ سے بلولو شہر کا راستہ چھ گھنٹے کا تھا۔ اس لیے میں نے سوچا کہ رات ساڑھے سات بجے قونیہ سے نکلا جائے تو رات 2 بجے تک مطلوبہ شہر پہنچ جائوں گا۔ وہاں سے پروگرام کے منتظمین ہمیں چھ بجے آکر لے لیں گے اور میں چھ بجے تک وہاں پر کسی مسجد میں تھوڑا سانس لے لوں گا۔ لیکن میں تو وہاں پہنچا ہی 8 بجے تھا۔ اس کی وجہ راستہ میں میرے ساتھ ایک بہت ہی عجیب واقعہ ہوا۔
رات 11 بجے کے قریب جب ہماری بس راجدھانی شہر انقرہ میں پہنچی تو کنڈیکٹر کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ انقرہ جانے والے سواریاں اتر جائیں جبکہ بولو شہر جانے والی سواریوں کو چائے، قضائے حاجت وغیرہ کے لیے آدھ گھنٹہ کا وقت دیا جاتا ہے۔ ساڑھے گیارہ بجے یہ گاڑی انقرہ اڈا سے اپنی منزلِ مقصود کی جانب گامزن ہو گی۔ ابھی آدھ گھنٹہ نہیں گزرا تھا جب میں واپس آیا تو دیکھا کہ بس اڈہ سے نکل چکی ہے۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ گاڑی کی ٹکٹ ابھی میری جیب میں ہی تھی۔ میں جلدی سے لاری اڈہ کے اندر میڑو بس کمپنی کے کاونٹر پر گیا اور اپنی ٹکٹ وہاں پر موجود ملازم کو دکھائی۔ ان دنوں میں ترکی میں شام سے آئے ہوئے مہاجرین کی وجہ سے مشرقی ممالک سے تعلق رکھنے والے ہر اجنبی کے بارے میں ایک عجیب سی نفرت ترکوں کے نیچے والے طبقوں میں پیدا ہو رہی تھی۔ کاونٹر پر بیٹھے ہوئے ملازم نے غیر ملکی دیکھ کر مجھے ٹکا سا جواب دے کر ٹال دیا۔ میں نے ٹکٹ کے اوپر لکھے ہوئے رابطہ نمبر پر کال کی اور انہیں سارا معاملہ بتایا۔ اور یہ بھی بتایا کہ انقرہ میں بیٹھے ہوئے احباب بھی کچھ زیادہ مدد کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تھوڑی دیر کال پر ہی انتظار کرنے کے بعد دوسری جانب کال پر موجود کمپنی کی نمائندہ خاتون نے مجھے کہا کہ اب آپ اندر کاونٹر پر چلے جائیں وہ آپ کو آنے والی اگلی بس پر بٹھا دیں گے۔

اس ساری بھاگ دوڑ میں آدھ گھنٹہ سے زیادہ ضائع ہو گیا۔ کاونٹرپر بیٹھے ہوئے ملازم جو تھوڑی دیر پہلے میں کچھ نہیں کرسکتا کہہ رہا تھا اب اسی نے کہا کہ تھوڑی دیر انتظار کرو میں ابھی تمہیں دوسری گاڑی میں سوار کرتا ہوں۔ تقریباً آدھ گھنٹہ مزید انتظار کے بعد اس نے لگ بھگ 12بجے کے قریب ایک گاڑی میں بٹھا دیا۔ ڈرائیور کو اس نے کچھ ہدایات دیں جن کو میں نہیں سمجھ سکا تھا۔ میں بھی خاموشی سے اس بس میں ایک سیٹ پر بیٹھ گیا۔ لیکن ذہن میں بار بار پہلی والی بس کا خیال آرہا تھا کیونکہ میرا بیگ جس میں کچھ کتب، کپڑے ، جوتی وغیرہ تھی سبھی اسی بیگ میں تھا اور بیگ اس نکل جانے والی بس میں۔ پیسے بھی کچھ زیادہ نہ تھے جیب میں کہ بولو شہر پہنچ کر نئے کپڑے اور جوتے وغیرہ خرید لوں۔ اسی سوچ میں تھا کہ مجھے ڈرائیور نے آواز لگائی اور بس سے اتارتے ہوئے یہاں انتظار کرو ایک گاڑی اور آگئی وہ تمہیں یہاں سے اٹھا لے گئی۔ رات کے تقریباً اڑھائی بج رہے تھے جہاں پر مجھے اتارا گیا وہاں نزدیک کوئی اڈا وغیرہ نہ تھا ۔
میں رات کے اس پہرہ وہاں اترا تو نیند کی وجہ سے پہلے تو سمجھ نہ سکا کہ کیا ہوا ہے پھر مجھے دور کتوں کے بھونکے کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ اب معاملہ سمجھنے میں مجھے کوئی دیر نہ لگی کہ انقرہ میں بیٹھے ہوئے ملازم نے ڈرائیور کو کیا کہا تھا۔ مجھے کتوں کے بھونکنے کی آواز سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اگرچہ ترکی میں کتوں کو ایک مخصوص ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ انسان کو کاٹتے نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ مجھے کتوں سے ڈر لگتا ہے اس لیے میں مزید گھبراگیا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ دن میں ہر چیز کا علاج اور دوا بنائی جاسکتی ہے لیکن ڈر کی نہیں۔ میں ہمیشہ مصیبت میں ہوں تو سورہ یسین کی تلاوت کرتا ہوں اب بھی میں نے سورہ یٰسین کی تلاوت شروع کی اور ایک سمت چلنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دور جاکر مجھے روشنی نظر آئی۔ میں نے اسی سمت مزید تیزی سے قدموں کو بڑھانا شروع کر دیا۔ کتوں کی آوازیں اب بھی اسی طرح آرہی تھیں۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد میں لائٹس لگی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا۔ مجھے وہاں پر نزدیک کوئی چیز نظر نہ آرہی تھی۔
محض ایک قہوہ خانہ تھا جس کے باہر والی طرف ایک آدمی صوفہ ڈالے سو رہا تھا۔ میں نے وہاں پہنچ کر پہلے تو سکھ کا سانس لیا ۔ جب میرے اوسان تھوڑے بحال ہوئے تو میں نے جیب سے موبائل نکالا اور دوبارہ میڑو کمپنی سے رابطہ کیا۔ اس مرتبہ میرے بولنا کا اندازبالکل ویسا ہی تھا جیسا کسی پنجابی کا ہوتا ہے جب وہ غصہ میں ہو۔ دوسری جانب سے کمپنی کے نمائندہ نے تھوڑی دیر انتظار کرنے کا کہا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ اس وقت کس جگہ پر ہیں؟ اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا کیونکہ مجھے بھی پتہ نہ تھا کہ میں اس وقت کہاں پر ہوں۔ چاہتے نہ چاہتے ہوئے اس سوئے ہوئے آدمی کو جگایا۔ پہلے تو اس نے مجھے انہی کلمات سے نوازا جو تھک کر کسی آدمی کو آدھی نینید میں جگایا جائے تو وہ ادا کرتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس وقت مجھے ترکی اتنی نہیں آتی تھی جو الفاظ اس آدمی نے نیم خوابیدگی کے عالم میں باواذبلند ادا کیے تھے ان کو سمجھ سکتا۔ اس وقت مجھے بس ایک لفظ "سکتر”[2] کی سمجھ آرہی تھی جو وہ باربار ادا کر رہا تھا۔ بہرحال میں نے بڑے تحمل سے اس کو معاملہ سمجھایا۔ اس نے میٹرو کمپنی کے نمائندہ سے بات کی ، ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اس نے جگہ کا نام بتایا۔ ہمیں فون پر کچھ دیر انتظار کروانے کے بعد اسی راستے سے گزر کر بولو جانے والی گاڑی کے ڈرائیور کا نمبر دیا گیا۔ جب اس سے رابطہ کیا تو اس نے ڈیڑھ گھنٹہ تک مطلوبہ جگہ پہچنے کا کہا۔ تقریبا دو گھنٹے بعد وہ وہاں پر آیا۔ اتنی دیر میں اس سوئے ہوئے آدمی نے مجھے چائے وغیرہ کا کہا لیکن میں نے شکریہ ادا کیا۔ یہیں پر انتظار کرو وہ تمہیں یہاں سے لے لیں گے ” کہا اور وہ آدمی سو گیا۔
میں نے باقی سارا وقت میں وہیں ٹہلتے ہوئے گزارا۔ تقریباً دو گھنٹے کے جان لیوا انتظار کے بعد مطلوبہ بس آئی۔ میں چپکے سے اس میں بیٹھ گیا اور سارا سفر یوں ہی ادھر ادھر دیکھتے یا پھر سونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کٹ گیا۔ جب میں بولو شہر میں پہنچا تو صبح کے سات بج رہے تھے۔ میں بس سے اترتے ہی سب سے پہلے اڈے کے اندر گیا وہاں پر میڑو کے کاونٹر پر جا کر اپنے بیگ کے بارے میں سوال کیا۔ بس کا ڈرائیور بھی وہیں بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ اس نے بیگ مجھے دیتے ہوئے کافی گالیاں دیں جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس کو کمپنی نے کتنا ڈانٹا ہو گا۔ میں نے بھی اسے ترکی بہ ترکی جواب دیا اور اس سے معذرت کرنے کا تقاضہ کیا کہ اس کی وجہ سے مجھے اتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن میرا سر بہت درد کر رہا تھا جیسا کہ جب بھی میں نروس یا غصہ کروں تو میرا سر اور جسم میں درد ہونے لگ پڑتا ہے۔ میں نے جلدی سے بات کو ختم کیا اور بیگ اٹھا کر مسجد جو کہ دوسری منزل پر تھی وہاں چلا گیا۔
خوشی قسمتی سے ہمیں سمر کیمپ تک لے جانے والی بس تقریباً 2 گھنٹے دیر سے پہنچی۔ میں تھوڑی دیر مسجد میں لیٹا رہا۔ پھر لاری اڈے میں موجود انتہائی نفسیں اور بڑے سے ریسٹورنٹ میں گھس گیا۔ بولو شہر کا لاری اڈا اگرچہ بہت زیادہ بڑا تو نہیں تھا البتہ کشادہ اور صاف ضرور تھا۔ من حیث القوم ترک ایک صفائی پسند قوم ہے۔ یہ صفائی ان کے گھروں، پارکوں، لاری اڈوں حتیٰ عوامی مقامات پر بنے ہوئے بیت الخلاء سے بھی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ چائے کے بعد ایک چکر اڈے کا لگایا۔ اتنی دیر میں ہمیں لاری اڈے سے سمر کیمپ لے کر جانے کے لیے بس بھی آگئی۔ اس سمیر کیمپ میں تقریباً سارے ترکی سے غیر ملکی- یعنی وہ طلبہ جو جمہوری کے ترکی شہری نہیں تھے لیکن ترکی میں زیر تعلم تھے- موجود تھے۔ یہاں سے ہمیں بسوں کے ذریعے "اعلیٰ داغ” (یعنی اونچا ٹبہ) لے کر جایا گیا۔ لاری اڈے سے یہ جگہ تقریباً ایک گھنٹہ کی مسافت پر تھی۔ یہ جگہ شہر سے ہٹ کر اور دور ہونے کی وجہ سے کوئی گاڑی کہیں قریب سے نہیں آتی جاتی تھی۔ یہاں اور شہر محض اپنی ذاتی سواری سے ہی آیا جاسکتا تھا۔ میری خوش قسمتی تھی کہ میں اس کے آنے سے پہلے وہاں پہنچ گیا تھا۔ ورنہ مجھے اور منتظمین کو بھی میری وجہ سے خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا۔ بہر حال سمر کیمپ کا حال سنانے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بولو شہر کا مختصر تعارف و تاریخ قلم بند کر دی جائے۔
بولو شہر:
بولو بحراسود کے خطہ میں واقع ہے۔ اس شہر کا تقریباً 64 فی صد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ بولو کے مغرب میںدوزجے اور سکاریہ شہر، شمال مغرب میں بلیجک اور ایسکی شہر، شمال میں انقرہ، مشرقی سمت میں چانقری، جنوب میں زانگولداک اور جنوب مشرق میں قرہ بوک شہر واقع ہیں۔ ندیوں، جھیلوں، گھنے درختوں، جڑی بوٹیوں سے بھرا ہوا یہ شہر انقرہ اور استنبول کی گزرگاہ پر واقع ہے۔ البتہ انقرہ سے استنبول تک جانے کا راستہ محض خشکی سے ہے سمندری راستہ نہیں کیونکہ بولو شہر میں سمندر نہیں ہے۔
بولو شہر کی مختصر تاریخ:
یہ شہر چھٹی صدی قبل مسیح فارسیوں کے ماتحت تھا۔ تقریباً تین سو سال بعد 336 ق م میں سکندر اعظم نے اناطولیہ کے دوسرے علاقوں کی طرح بولو شہر کو بھی فارسیوں سے چھین کر روما سلطنت کے ماتحت کر دیا۔1071ء میں مشہور ملازغت جنگ کے بعد ترکمان قبیلہ کے لوگ 1074ء کے لگ بھگ بولو شہر میں بھی اپنی بستیاں آباد کرنے میں کامیبا ب ہو گئے۔ جب سلجوقی حکمران سلیمان شاہ کے وزراء استنبول کی دیواروں میں نقب زنی کر رہے تھے ٹھیک انہی ایام میں الصلاح الدین خراسانی نامی ایک کماندار نے بولو شہر کو فتح کرکے سلجوقوں کی سلطنت میں شامل کر دیا۔ عثمانیوں کےدوسرے بادشاہ اروحان غازی بن عثمان غازی کے دورور حکومت میں (1324-1326ء) کے درمیانی سالوں میں اس شہر پر لشکر کشی کی گئی۔ کہاجاتا ہے کہ عثمانیوں کے ابتدائی زمانہ میں یہاں کثیر تعداد میں علماء و فضلاء قیام پذیر تھے اسی مناسبت سے اس جگہ کو ” بول اوغلو” (یعنی بہت عظیم) کہاجاتا تھا پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ لفظ بولو ہوگیا۔ مشہور عثمانی بادشاہ قانونی سلطان سیلمان اپنے والد بایزید ثانی کے دورِ حکومت میں بطور گورنر اس شہرمیں تعینات رہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد اس پر بھی یورپین اتحادی فوجوں نے قبضہ کر لیا التبہ مصطفی کمال اتاترک کے زیر کمان شروع کی گئی جنگ آزادی کے بعد 10اکتوبر 1923ء میں اس کو آزاد کراوا لیا گیا۔ 2018ء میں کئی گئی مردم شماری کے مطابق بولو شہر کی کل آبادی 303.184 نفوس پر مشتمل تھی۔
اعلیٰ داق:[3]
اس سمر سکول میں تقریباً ایک ہفتہ تک ہم مقیم رہے۔ جس میں ہمیں مختلف قسم کے اسباق میں حاضرہونا لازمی ہوتا تھا۔ یہ جگہ ایک انتہائی ویران اور بہت ہی کشادہ تھی۔ جس پر بہترین طرز پر کمرے تیار کیے گئے۔ ہر کمرہ طالب علموں کو دیا گیا۔ میرےساتھ ایران سے تعلق رکھنے والے مہدی نام کے دوست تھے۔ جو اگرچہ میڈیکل کے طالب علم تھے پھر بھی دورِ حاضرکے واقعات میں انتہائی دلچسپی لتیے تھے۔ یہاں میں فجر کی نماز کمرے میں پڑھ لیتا تھا۔ نماز کے بعد ہم دوست کمیپس سے باہر نکل کر تھوڑا گھوم پھر لتیے تھے۔ اگرچہ یہ جگہ تھی تو شہر اور آبادی سے بہت دور لیکن جھیلوں اور جنگلات سے گھری ہونے کی وجہ سے انتہائی خوبصورت اور صحت افزاء تھی۔ اس کے اندر ہی چھوٹی چھوٹی جھیلیں اور گھنا لمبا جنگل تھا۔ ہمارے بعض دوست تو ایک دن مچھلی پکڑنے کے لیے جھیل پر پہنچ گئے۔ جبکہ میں دوستوں کے ساتھ جنگل میں گھوما کرتا تھا۔ یہ جنگل اتنا لمبا تھا کہ ایک دن تو مجھے بھی خوف آنے لگا تھا۔
صبح کی سیر کے بعد کمرے میں واپس آکر غسل کرتے اور ناشتہ کے لیے لنگر خانہ پہنچ جاتے تھے۔ دس بجے سے لے کر بارہ بجے تک دو گھنٹے کلاس ہوتی تھی۔ جس میں آنے والے اساتذہ مختلف قسم کے درس دیتے تھے۔ ان میں ترکی کی داخلی وخارجی سیاست، ترکی کے ہمسائیہ ممالک اور امریکہ سے تعلقات، ترکی اور یورپی یونین سے تعلقات، ترکی کی معاشی حالت وغیرہ۔ البتہ بعض مرتبہ کلاس میں اس وقت بڑی دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوتی تھی جب کلاس میں دو گروپ بن کر مختلف معاملات پر خوب بحث و مباحثہ کرتے۔ یہ کبھی کبھی تو تقریباً ایک گھنٹہ تک بھی جاری رہتا تھا۔ یہاں مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ اگرچہ ترکوں کو برصغیر کے مسلمانوں سے انتہائی عقیدت اور محبت ہے لیکن عملی طور پر ان کی معلومات برصغیر کے متعلق نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بالکل یہی صورت حال برصغیر باشندوں کی بھی ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سب سے زیادہ ہماری بحث کیا امتِ مسلمہ میں اتفاق و اتحاد ممکن ہے یا نہیں؟ کے موضوع پر ہوئی تھی۔ جس گروپ کی قیادت میں کر رہا تھا ہم لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ امتِ مسلمہ میں معاشی حالات کے بہتر ہونے تک اتفاق و اتحاد ممکن نہیں کیونکہ تاریخ میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر میں سے ایک عنصر خود دوسرے فرقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہی ہیں۔ جبکہ دوسرے گروپ کہ جن میں اکثریت عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے دوستوں کی تھی وہ قرآن کی بعض آیات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر رہے تھے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ اگر مسلم امت میں موجود بعض حکمرانوں کو ہٹا دیا جائے تو امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق ممکن ہے۔ لیکن اس بات کا جواب ان کے پاس بھی نہیں تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو امت مسلمہ کا لیڈر کون ہو گا؟ کیا عرب ممالک کسی عجمی ملک کو اپنا سربرارہ تسلیم کر لیں گے؟ اگر کرتے بھی ہیں تو اس کے اختیار کیا ہوں گے؟ اگر اتحاد ممکن تھا تو ترکوں اور عربوں کی آپسی لڑائیاں کیوں ہوئیں؟ پاکستان دو لخت کیوں ہوا؟ حالانکہ یہ سبھی لوگ بھی مسلمان تھے۔ وغیرہ وغیرہ
البتہ ایک ہفتہ کے دوران کوئی بھی بدمزگی یا کسی بھی قسم کی ذاتی جملہ بازی یا لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔ بلکہ جیسے ہی کلاس ختم ہوتی تھی ہم سبھی ہنستے اور ایک دوسرے سے مذاق کرتے ہوئے باہر نکلتے تھے۔ حتیٰ کئی بار تو میں کھانے کے لیے دیر سے جاتا تو دوسرے گروپ کے دوست بھی میرے لیے جگہ خالی کر دیتے تھے۔ اس گروپ میں پاکستان کے صوبہ بلوچشتان سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے علاوہ ایران، افغانستان، عراق، فلسطین، شام، بلقان وغیرہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ سے بھی اچھی خاصی دوستی ہو گئی
تھی۔
دو بجے دوپہر کا کھانا کھاتے اور اس کے بعد قیلولہ کے لیے اپنے اپنے کمروں میں چلے جاتے تھے۔ عصر کی نماز کے بعد دوست ایک بار اکٹھے ہوتے اور والی بال، فٹ بال وغیرہ کھیلتے یہاں تک کہ شام ہو جاتی تھی۔ کیونکہ مجھے فٹ بال یا والی بال زیادہ کھیلنی نہیں آتی اس لیے میں دوستوں کے ساتھ گھومنے کے لیے کیمپس سے باہر دور دور تک چلا جاتا تھا۔ پہاڑوں، چشموں، تالابوں سے بھرا ہوا یہ قصبہ گاڑیوں کے شور سے بہت دور تھا۔ مجھے صحیح معنوں میں یہاں آکر خوشی اور ذہنی سکون میسر آیا تھا۔ ایک ہفتہ سمر کیمپ کے بعد ہم بولو شہر میں آگئے جہاں پر اس خوبصورت شہر کی ہمیں سیر کروائی گئی۔
گولوجک گول (چھوٹی جھیل):[4]
بولو شہر کی سیر کا آغاز ہم نےاسی جھیل سے کیا۔ یہ جھیل شہر مرکز سے 17 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں جگہ جگہ صنوبر کے درخت اگے ہوئے تھے ۔ سبزہ ایسا کو دل کو خوش کر دیتا تھا۔ بالخصوص درختوں کا سایہ جب جھیل کے پانی میں پڑتا اور اس کو
دیکھنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔
یدی گل پارک: (سات جھیلوں والا پارک)[5]
اس کے بعد ہم اس شہر کی سب سے مشہور جگہ سات جھیلوں والے پارک میں گئے۔ جب میں اس پارک میں داخل ہوا تو مجھے ایک خاص قسم کی تسکین حاصل ہوئی۔ بعض لوگ اس کے ایک طرف بیٹھے پکنک منا رہے تھے، کچھ لوگ منگال (یہ گوشت کو آگ پر بھوننے کا ایک مخصوص طریقہ ہے۔ تقریباً ترکی کے ہر شہر میں موسم گرما و سرما میں منگال بنانے والے لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو پارکوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔) بھی بنا رہے تھے۔ جبکہ کچھ لوگ ان جھیلوں سے مچھلی بھی پکڑ رہے تھے۔ ایک طرف لگے جھولے جس میں بچے کھیل کود رہے تھے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ظہر کی نماز کا وقت ہو رہا تھا۔ یہاں پر رنگ برنگے پرندے جو کہ مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی دیکھنے کو مل رہے تھے۔ ان میں سے بعض جگہیں تواتنی خوبصورت تھیں کہ بے اختیار میں کسی درخت کے سایہ میں بیٹھ گیا۔ ایک جگہ لگے ہوئے جھولے پر بیٹھ کر تھوڑی دیر جھولے لیتا رہا۔ قریبی مسجد سے اذان کی آواز آنے لگی۔ جلدی سے پارک میں ہی تعمیر کردہ مسجد میں نماز ظہر قصر کی صورت میں ادا کی اور گاڑی کی طرف بڑھے جہاں دوست انتظار کر رہے تھے۔ اس کے بعد ہمیں مزید جھلیوں کی سیر کروائی گئی جن میں ابانت گل، سنت گل، سولکول گل اور قرتیپے قایاق مرکز وغیرہ جگہ شامل ہیں۔ اس کے بعد ہم بولو شہر کے مرکز میں آگئے۔
جامع مسجد نامدار:
مرکز میں ہی خوبصورت سرکاری عمارتیں جن میں مقامی حکومت (بلدیہ) کی عمارت ، گورنر ہاوس وغیرہ شامل تھیں۔اس کے سامنے ایک لمبی سی گلی تھی جس میں انسان ادھر ادھر چل رہے تھے۔ میں نے بھی یہاں کے ایک دو چکر لگائے۔ یہاں چلنے میں بھی مزہ آرہا تھا۔ یہاں کی خواتین کے بال اور آنکھیں بہت خوبصورت ہیں۔ دائیں طرف جہاں یہ سڑک ختم ہو رہی تھی وہیں کنارے پر "جامع مسجد نامدار” نام سے تعمیر کردہ ایک انتہائی خوبصورت مسجد واقع ہے۔ جفت میناروں اور ایک گنبد والی نقش و نگاراور سادگی کا نمونہ لیے ہوئی یہ مسجد چوتھے عثمانی بادشاہ یلدرم بایزید(1360-1403ء) نے 1382ء میں بنوائی تھی۔ اسی وجہ سے اس مسجد کا دوسرا نام "جامع مسجد یلدرم بایزید ” بھی ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ کبھی ایک کتب خانہ بھی موجود تھا لیکن جب ہم گئے تو وہاں ایسی کوئی چیز نہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گلی سےگزر کر بازار کی طرف جایا جاسکتا ہے ۔ میں نے یہاں سے ایک عدد شوارما (جس کو ترکی زبان میں دونر کہتے ہیں) کھایا ایک گلاس لسی کا پیایا۔ کیونکہ سورج نکل چکا تھا اور چلتے چلتے مجھے بھی تھکاوٹ محسوس ہونے لگی تھی۔لہذا زیادہ دیر کیے بغیر دوستوں کی معیت میں واپس میدان کی طرف آگئے۔
بلدیہ کی عمارت کے سامنے ایک قدرے بلند قامت مجسمہ نصب تھا۔ اس مجسمہ میں بولو بے نامی کے ایک سردار گھوڑے پر بیٹھا ہے جس نے ایک ہاتھ سے گھوڑے کی باگیں پکڑی ہوئی ہیں تو دوسرے ہاتھ ساز کا ایک آلہ لیے ہوئے گھوڑے کو دوڑا رہا ہے۔ ہیکل کے ساتھ لوگ کھڑے ہوئے کر تصاویر بنا رہے تھا۔ یہ مجسمہ بولو شہر کی علامت بن چکا ہے۔ اس ہیکل پر یہ جملہ لکھا ہوا تھا ” بولو بے کو میری طرف سے سلام ہو "۔
بولو بے (سردار) کے متعلق ایک لوک کہانی:
کہا جاتا ہے کہ بولو شہر میں بولو ہی کے نام سے مشہور ایک سردار ہوا کرتا تھا جسے گھوڑے پالنے، گھوڑوں کی ریس کروانے کا بہت شوق تھا۔ ایک مرتبہ اس نے اپنے سائیس (گھوڑوں کے نگران) یوسف کو ایک بہترین گھوڑا خریدنے کا حکم دیا۔ یوسف نے فرات نہر کے کنارے رہنے والے قبائل میں سے ایک بہترین گھوڑی کا چھوٹا سا بچہ خرید لیا اور اپنے سردار کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بولو آگیا۔ یہ گھوڑا جوابھی کم عمر تھااور دیکھنے میں بھی کوئی پرکشش نہ تھا۔ جب بولو سردار نے اس کو دیکھا تو سمجھا کہ یوسف نے اس سےکا مذاق اڑارہا ہے۔ اس نے غصہ میں آکر یوسف کی آنکھوں میں سلائی پھروادی اور اس کو اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ بولو شہر سے بھی نکال دیا۔
نابینا ہوکر گائوں واپس آنے والے یوسف نے سارا ماجرہ اپنے بیٹے روشن علی کو سنا یا جس نے بولو سردار سے بدلہ لینے کی قسم کھا لی۔ ایک رات خواب میں اس نے دیکھا کہ ایک ندی کے کنارے پڑے ہوئے مشروب کو پینے سے اس کے باپ کی آنکھیں ٹھیک ہوگئیں ہیں۔ یوں اس کا باپ خود ہی بولو سردار سے بدلہ لینے کے قابل ہو گیا ہے۔ دوسرے دن باپ کے ساتھ روشن علی اس مقام پر پہنچ گیا۔ جب روشن علی اس ندی کے پاس پہنچا تو پیاس اس شدت کی لگی کہ وہ باپ کی آنکھوں کے متعلق بھول گیا۔ وہاں پر رکھے ہوئے جادوئی شربت کے جام کو جلدی سے پی لیا۔ پینے کے بعد اس کو ہوش آیا تو والد کی آنکھوں کی طرف دیکھ کر اسے بہت دکھ ہوا کیونکہ یہ اب ٹھیک نہیں ہو سکیتں تھیں۔ والد کی وہیں پر وفات کے بعد روشن علی جو اب نابینا کا بیٹا (قراوغلو) کے نام سے مشہور ہو چکا تھا نے بولو شہر کے سامنے چملیبدل نامی قلعہ تعمیر کروایا۔
گزرنے والے ہر قافلہ سے بھاری ٹیکس وصول کرتا اور انکار کرنے پر قافلہ کو لوٹ لیا کرتا تھا۔ وہی گھوڑی کا بچہ جس کی وجہ سے بولو سردار نے یوسف کی آنکھوں میں سلائی پھیروائی تھیں اب مکمل گھوڑا بن چکا تھا۔ جس کی رفتار اتنی تیز تھی کہ پکڑنا ناممکن ۔روشن علی نے اپنے جیسے چند دوسروے لوگوں کو ساتھ ملا کر ایک فوج بنائی اور قریبی قلعوں کو لوٹنا شروع کردیا۔ انہی دنوں اوسقودار استنبول میں مقیم قصابوں کے سردار کے بیٹے اوواز کو جوکہ حسن میں اپنی مثال آپ تھا پکڑ کر اپنے قلعے میں لیے آتا ہے اور اس کو اپنی اولاد ہونے کا اعلان کر دیتا ہے۔ روشن علی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے حتیٰ کہ ایک دن بولو شہر میں گھس آیا اور بولو سردار کی بہن دونے خانم کو اٹھا کر لیے آتا ہے۔ بولو سردار ، روشن علی کے منہ بولے بیٹے کو گرفتار کر زندان میں ڈال دیتا ہے۔ جس پر روشن علی واپس قلعہ آتا ہے اور تیاری کرکے بولو شہرپر حملہ آور ہو کر اس کو تباہ کر دیتاہے۔ بولو سردارکو خوفناک جنگ میں شکست دینے کے بعد اس سے اپنے باپ کا انتقام لیتا ہے۔
ایک دن روشن علی کے ماتحت سرداروں میں سے دوسردار آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ ایک سردار غصہ میں آکر دوسرے سردار کو رائفل سے گولی ماردیتا ہے۔ جب اس بات کا علم روشن علی کو ہوتا ہے تو وہ اس سے بددل ہو کر دنیا سے منہ موڑ لیتا ہے۔ اس کے بعد اسے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس کا آخری جملہ ” میری جانب سے بولو سردار کو سلام کہنا۔” تھا۔ یوں یہ جملہ بولو بے کے نام کے ساتھ لکھا جانے لگا۔

یوں اس حکایت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ نہ صرف ترکی ، برصغیر پاک و ہند بلکہ دنیا ہر جگہ میں ایسی حکایت و قصہ جات مشہور ہیں۔ جو سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچے ہیں۔جن میں کردار ایک جیسے ہوتے ہیں البتہ واقعات اور ناموں میں قدرے فرق رہتا ہے جیسے ہمارے ہاں شیخ چیلی ہے تو ترکی میں ناصرالدین خواجہ ہے۔ بہرحال اس شہر کی سیر کرنے کے بعد ہمیں لاری اڈے پہنچایا گیا۔ ہمارے آنے اور جانے کے سفری اخراجات بھی ترک حکومت نے ہی برداشت کیے تھے۔ شہر سے لاری اڈے آتے ہوئے راستے میں ، میں نے منتظمین بالخصوص قیصیرہ شہر سے آئے ہوئے علی درسن صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ لاری اڈے میں ہر دوست اپنے اپنے شہر روانہ ہو گیا۔ شام کی گاڑی سے میں نے بھی قونیہ کے لیے رختِ سفر باندھا۔
گاڑی شام کے اندھیروں میں بولو شہر کے چھوٹے مگر خوبصورت لاری اڈے سے باہر نکلی۔ آہستہ آہستہ پھر تیز ہوتی گئی۔ باہر اب تقریباً اندھیرا ہو چکا تھا۔ سارے دن کی سیر نے مجھے تو پہلے سے ہی تھکا دیا تھا۔ میں نےپہلے تو سیٹ پر ٹھیک لگائی اور آنکھیں بند کر لیں۔ لیکن نہ جانے کیوں میرے ذہن میں ابھی بھی بولو شہر آتے ہوئے جو کچھ ہوا وہی میرے ذہین میں بار ب بار گھوم رہا تھا۔ یہی سوچتے ہوئے میں نے گاڑی سے باہر نظر دوڑائی تو وہی ناموس اکبر شخصیت اس بار مجھے حوصلہ دینے کے لیے مسکراتی ہوئی فرما رہی تھی ۔ ” اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اپنی جان کی فِکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پیئیں گے؟ اور نہ اپنے بَدَن کی کہ کیا پہنیں گے؟ کیا جان خوراک سے اور بَدَن پوشاک سے بڑھ کر نہِیں۔ ہوا کے پرِندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ کوٹھِیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تُمہارا آسمانی باپ اُن کو کھِلاتا ہے۔ کیا تُم اُن سے زیادہ قدر نہِیں رکھتے؟ تُم میں اَیسا کون ہے جو فِکر کر کے اپنی عُمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے۔ اور پوشاک کے لِئے کِیُوں فِکر کرتے ہو؟ جنگلی سوسن کے دَرختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کِس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کاتتے ہیں۔ ”
[1] Yurtdışı Türkler ve Akraba Topluluklar Başkanlığı
[2] ترکی میں زبان کی کثیر الاستعمال گالیوں میں سے سب سے مشہور
[3] Aladağ
[4] Gölcük Gölü Bolu
[5] Yedigöller Milli Parkı
