Turkiya-Logo-top

اقبال رحمۃ اللہ علیہ اور ترک

اسلم جے بھٹی

اقبال رحمۃ اللہ علیہ اور ترکوں کا تعلق صرف شاعری کا تعلق نہیں تھا۔ یہ دل کا تعلق تھا، ایمان کا تعلق تھا، امت کا تعلق تھا، درد کا تعلق تھا۔ اقبال ترک قوم سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ترک مسلمانوں کی شان تھے، ان کی غیرت کی علامت تھے، ان کی آزادی کی آخری امید تھے۔ جب پوری دنیا میں مسلمان کمزور ہو رہے تھے، جب خلافت ٹوٹ رہی تھی، جب مغربی طاقتیں مسلمان ملکوں کو غلام بنا رہی تھیں، اس وقت اقبال کی نظر ترکی پر تھی۔ وہ ترکی کو امت مسلمہ کا دل سمجھتے تھے۔

اقبال نے ترکوں کے درد کو اپنے کلام میں بار بار اپنا درد بنایا۔ اس کی سب سے بڑی مثال ان کی نظم «طلوعِ اسلام» ہے، جو بانگِ درا میں شامل ہے۔ جب ترکوں نے جنگِ آزادی میں حوصلہ دکھایا تو اقبال نے امید بھرے لہجے میں لکھا:

اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

یہ شعر صرف تسلی نہیں ہے، یہ اقبال کا فلسفہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر عثمانی ترکوں پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے تو گھبرانے کی بات نہیں، کیونکہ لاکھوں ستاروں کے خون سے ہی صبح پیدا ہوتی ہے۔ یعنی قربانی ہی سے نئی صبح طلوع ہوتی ہے۔ ترکوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ اسی نظم میں آگے وہ کہتے ہیں:

جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

اقبال کے نزدیک ترکوں کا جگر خوں ہونا ہی ان کی بصیرت کا ثبوت تھا۔

اس سے پہلے 1912ء میں جب اٹلی نے سلطنتِ عثمانیہ کے صوبہ طرابلس پر حملہ کیا، تو اقبال کا دل تڑپ اٹھا۔ طرابلس کے شہید ترکوں کا غم انہیں بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک لے گیا۔ انہوں نے بانگِ درا میں «حضورِ رسالت مآب میں» کے عنوان سے وہ لافانی نظم لکھی جس میں وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔ نظم کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:

گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامہ زمانہ ہوا
جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہوا

قیودِ شام و سحر میں بسر تو کی لیکن
نظامِ کہنہ عالم سے آشنا نہ ہوا

فرشتے بزمِ رسالت میں لے گئے مجھ کو
حضورِ آیہ رحمت میں لے گئے مجھ کو

پھر اقبال بارگاہِ رسالت میں اپنی بے بسی بیان کرتے ہیں:

حضور! دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بو وہ کلی نہیں ملتی

اور پھر وہ وہ نذرانہ پیش کرتے ہیں جس نے سارے عالمِ اسلام کی آنکھیں نم کر دیں:

مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
یہ چیز وہ ہے کہ جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں

یہاں اقبال ترک شہیدوں کے لہو کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں امت کی آبرو کا آئینہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک طرابلس کا شہید صرف ترک نہیں تھا، وہ پوری امت کا شہید تھا۔ اس کا لہو امت کی عزت کی دلیل تھا۔

اقبال نے اسی دور میں اپنی مشہور نظم «محاصرہ ادرنہ» بھی ترک فوجوں کے اعلیٰ کردار کی تعریف میں لکھی۔ انہوں نے ترک مجاہدین کی بہادری، ان کی ثابت قدمی اور ان کے ایمان کی تعریف کی۔ وہ کہتے تھے کہ ترکوں نے صدیوں تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھا۔ انہوں نے یورپ کے سامنے اسلام کی دیوار بن کر کھڑے رہے۔ انہوں نے مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت کی، انہوں نے حجازِ مقدس کی حفاظت کی، انہوں نے خلافت کی لاج رکھی۔

اقبال کو مصطفیٰ کمال اتاترک سے بھی شروع میں بڑی امیدیں تھیں۔ جب اتاترک نے جنگِ آزادی لڑی اور ترک قوم کو مغربی غلامی سے آزاد کرایا، تو اقبال نے اس کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ترک قوم نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان اگر ہمت کرے تو بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دے سکتا ہے۔ اس سے ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی حوصلہ ملا کہ اگر ترک آزاد ہو سکتے ہیں تو ہم بھی آزاد ہو سکتے ہیں۔

لیکن اقبال کی محبت اندھی محبت نہیں تھی۔ وہ حق بات کہنے سے کبھی نہیں ڈرتے تھے۔ جب خلافت کو کمزور کیا گیا اور ترکی کو مغرب کی اندھی نقل کی طرف لے جانے کی کوشش کی گئی، تو اقبال کو دکھ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ترک قوم کی اصل طاقت اس کا ایمان ہے، اس کا اسلام ہے، اس کی روحانی وراثت ہے۔ اگر ترک اپنے دین سے دور ہو گئے تو ان کی طاقت ختم ہو جائے گی۔ اقبال چاہتے تھے کہ ترکی جدید بھی ہو، ترقی یافتہ بھی ہو، سائنس میں بھی آگے ہو، مگر اپنے اسلام کو نہ چھوڑے۔

اقبال نے ترک شاعر محمد عاکف ارصوی سے بھی محبت کی۔ محمد عاکف کو ترکی کا اقبال کہا جاتا ہے۔ دونوں کی سوچ ایک تھی، دونوں کا درد ایک تھا، دونوں کا مقصد ایک تھا، مسلمانوں کو جگانا۔ اقبال نے ترک ادب کا مطالعہ کیا، ترک تاریخ کو پڑھا، ترک مجاہدین کی زندگیوں سے سبق لیا۔

اقبال ترکوں کو اس لیے بھی پسند کرتے تھے کہ ترکوں میں عمل تھا۔ ترک باتیں کم کرتے تھے، کام زیادہ کرتے تھے۔ وہ قربانی دینے سے نہیں ڈرتے تھے۔ اسی لیے اقبال نے «ترانۂ ملی» میں کہا:

چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

یہ وطن ترک بھی ہے، عرب بھی ہے، ہندوستان بھی ہے۔ اقبال کے نزدیک ساری امت ایک وطن ہے۔ ترکوں کا درد ہندوستانی مسلمانوں کا درد ہے، اور ہندوستانی مسلمانوں کا درد ترکوں کا درد ہے۔

آج بھی اقبال کا پیغام ترکوں اور پاکستانیوں دونوں کے لیے ایک ہے۔ آج ترکی اور پاکستان دونوں بھائیوں کی طرح ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان محبت کی بنیاد اقبال نے رکھی تھی۔ آج بھی جب پاکستان میں کوئی ترک مہمان آتا ہے تو لوگ اسے دل سے پیار دیتے ہیں، اور جب ترکی میں کوئی پاکستانی جاتا ہے تو اسے اپنا بھائی سمجھا جاتا ہے۔ یہ محبت اقبال کی محبت کا صدقہ ہے۔

اقبال کا ترکوں کے بارے میں پیغام آج بھی زندہ ہے۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان قومیں اگر متحد ہو جائیں تو وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہیں۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنی تاریخ پر فخر کرو، اپنے شہیدوں کو یاد رکھو، اپنے ایمان کو مضبوط رکھو۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مغرب سے علم سیکھو، مگر مغرب کی غلامی قبول نہ کرو۔ اپنی خودی کو بلند رکھو، اپنی پہچان کو قائم رکھو۔

اگر آج ہم اقبال کو پڑھیں اور ترکوں کی تاریخ کو سمجھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ آزادی مفت میں نہیں ملتی۔ آزادی کے لیے خون دینا پڑتا ہے، قربانی دینی پڑتی ہے، اتحاد پیدا کرنا پڑتا ہے۔ ترک قوم نے یہ قربانی دی، اس لیے آج وہ سر اٹھا کر کھڑی ہے۔ ہمیں بھی یہی کرنا ہے۔ ہمیں بھی اپنے ملک کے لیے، اپنی قوم کے لیے، اپنی امت کے لیے قربانی دینی ہے۔

اقبال رحمۃ اللہ علیہ اور ترک کا رشتہ محبت، درد، ایمان اور امید کا رشتہ تھا۔ یہ رشتہ آج بھی قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ کیونکہ اقبال نے اس رشتے کو شاعری میں نہیں، دلوں میں لکھا تھا۔

Read Previous

مکہ دفاعی اتحاد کے بعد پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو

Leave a Reply