Turkiya-Logo-top

پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی کا روس کے ورونیژ ریجن کا پہلا دورہ، پاکستان اور روس کے درمیان تجارت اور تعلیم میں تعاون بڑھانے پر بات چیت

روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ورونیژ ریجن کا سرکاری دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے علاقائی حکومت اور جامعات کی قیادت سے ملاقاتوں میں تجارت، تعلیم، زراعت، سائنس، ٹیکنالوجی اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی۔

روس میں پاکستانی سفارت خانے کے مطابق یہ کسی بھی پاکستانی سفیر کا ورونیژ ریجن کا پہلا دورہ ہے، جسے روس کے مختلف علاقوں کے ساتھ پاکستان کے براہِ راست روابط بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

دورے کے دوران سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ورونیژ ریجن کے گورنر الیگزینڈر گوسیف سے ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر دونوں جانب سے دوطرفہ تجارت، تعلیمی تعاون، زراعت، سائنس، ٹیکنالوجی اور سیاحت میں شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان کے مطابق گورنر گوسیف نے پاکستانی وفد کو ورونیژ کی معاشی اور صنعتی ترقی، تعلیمی اداروں اور ان شعبوں کے بارے میں بریفنگ دی جہاں پاکستان کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

بات چیت میں ورونیژ کے زرعی اور صنعتی شعبوں کی صلاحیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ پاکستانی سفارت خانے کے مطابق یہ خطہ زرعی پیداوار، فوڈ پروسیسنگ، انجینیئرنگ، صنعتی آلات اور ویٹرنری سائنسز میں مہارت رکھتا ہے، جہاں پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے درآمدات، ٹیکنالوجی پارٹنرشپ اور مشترکہ منصوبوں کے مواقع موجود ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی سفیر نے اس موقع پر پاکستان کی برآمدی صلاحیت کا بھی ذکر کیا اور ٹیکسٹائل، گارمنٹس، چاول، ادویات، سرجیکل آلات اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو روسی منڈی تک زیادہ رسائی دینے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے سے دوطرفہ تجارت کے نئے مواقع سامنے آ سکتے ہیں۔

فیصل نیاز ترمذی نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے اس وژن کا بھی ذکر کیا جس کے تحت پاکستان اور روس کے تعلقات کو کاروباری روابط، تعلیمی شراکت داری، طلبہ کے تبادلوں اور سیاحت کے ذریعے مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

دونوں جانب سے ویٹرنری سائنسز، زراعت، انجینیئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے، مشترکہ تحقیق اور طلبہ و اساتذہ کے تبادلوں کے امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔

ورونیژ اسٹیٹ یونیورسٹی کا دورہ

پاکستانی سفیر نے اپنے دورے کے دوران 108 سال پرانی وورونژ اسٹیٹ یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے خطے کی مختلف جامعات کے سربراہان اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔

وورونژ اسٹیٹ یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر یوری اسٹاریلوف نے پاکستانی سفیر کا استقبال کیا۔ اجلاس میں ورونیژ اسٹیٹ ایگریرین یونیورسٹی کی ریکٹر پروفیسر اینا وورونینا، این این بردینکو ورونیژ اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی کے فرسٹ وائس ریکٹر پروفیسر ولادیمیر بولوٹسکیخ اور علاقائی حکومت کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ورونیژ ریجن کی وزیر اقتصادی ترقی لیوڈمیلا زاپوروزتسیوا نے اجلاس میں بتایا کہ خطے میں 28 اعلیٰ تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں تقریباً ایک لاکھ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

ان اداروں میں فلم، نفسیات، زراعت، ویٹرنری سائنسز، راکٹ انجینیئرنگ اور طب سمیت 40 سے زیادہ شعبوں میں تعلیم دی جاتی ہے۔

اجلاس میں پاکستانی اور روسی جامعات کے درمیان براہِ راست شراکت داری، مشترکہ تحقیق، طلبہ اور اساتذہ کے تبادلوں کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔

پاکستانی سفیر نے خصوصاً میڈیسن، زراعت، ویٹرنری سائنسز، انجینیئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی طلبہ کو درپیش ویزا سے متعلق مسائل بھی ملاقات میں زیرِ بحث آئے۔ پاکستانی سفارت خانے کے مطابق اس بات پر زور دیا گیا کہ تعلیمی تبادلوں کو بڑھانے کے لیے ان مسائل کے حل اور طلبہ کے لیے سہولت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ورونیژ کی جامعات کی قیادت نے پاکستانی تعلیمی اداروں کے ساتھ روابط بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ سفیر فیصل نیاز ترمذی نے متعلقہ پاکستانی اداروں سے رابطے قائم کرنے میں سفارت خانے کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

دورے کے دوران پاکستانی سفیر نے ورونیژ اسٹیٹ یونیورسٹی کے میوزیم اور ایگزیبیشن سینٹر میں نادر کتابوں اور مخطوطات کے ذخیرے کا بھی معائنہ کیا۔

پاکستانی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد روس کے مختلف علاقوں کے ساتھ پاکستان کے معاشی، تعلیمی اور ادارہ جاتی روابط کو وسعت دینا اور عملی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔

Read Previous

وزیر خارجہ پاکستان اسحاق ڈار سے آزاد کشمیر کی قیادت کی ملاقات

Leave a Reply