مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے یکجہتی، ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور عالمی برادری کی توجہ تنازع کشمیر کی جانب مبذول کرانے کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے پیغامات میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے انسانی حقوق کی صورتِ حال کا نوٹس لینے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ و پُرامن حل کے لیے کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی کشمیریوں کی سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ وزیرِ امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام نے یومِ سیاہ کے سلسلے میں ملک بھر میں ہونے والی سرگرمیوں کو اجاگر کیا۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں ریلیوں، سیمینارز اور دیگر تقریبات کے ذریعے کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئیں، جس کے بعد کشمیر کا تنازع پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ اور پھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں جموں و کشمیر کے مستقبل کے تعین کے لیے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تنازع کا پائیدار حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اور ان کے حقِ خودارادیت کو یقینی بنا کر ہی ممکن ہے۔
5 اگست 2019ء کو بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی اور سابق ریاست کو دو وفاقی علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا۔ پاکستان اس اقدام کی مخالفت کرتا ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے منافی قرار دیتا ہے۔ ناقدین اور کشمیری حلقوں نے اس کے بعد آبادی کے تناسب میں تبدیلی، غیر مقامی افراد کو رہائشی اسناد کے اجرا، زمین سے متعلق قوانین میں تبدیلی اور سیاسی آزادیوں پر پابندیوں کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی پابندیوں، گرفتاریوں، آزادیٔ اظہار پر قدغنوں اور مذہبی اجتماعات میں رکاوٹوں کے حوالے سے بھی تشویش سامنے آتی رہی ہے۔ اپریل 2025ء میں پہلگام حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھی اور پاکستان و بھارت کے درمیان فوجی جھڑپیں ہوئیں۔ اس صورتِ حال نے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم کے خطرات اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی ضرورت کو دوبارہ نمایاں کیا۔
اسی تناظر میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اعلان پر بھی پاکستان نے اعتراض کیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ 1960ء میں طے پانے والا یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے لیے قانونی طور پر پابند ہے اور دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں یک طرفہ مداخلت خطے کے امن، ماحول اور لاکھوں افراد کی زندگیوں پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
