Turkiya-Logo-top

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل اور غزہ، ایران سے متعلق پالیسیوں کا امتحان

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے 27 اکتوبر کو ووٹنگ جاری ہے۔ وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے لیے یہ انتخاب 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سکیورٹی ناکامیوں، غزہ میں تباہ کن جنگ، بدعنوانی کے مقدمات اور داخلی سیاسی تقسیم پر عوامی ردِعمل کا اہم امتحان ہے۔ مقابلہ نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور دائیں بازو کے اتحادیوں کا سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں سرگرم اپوزیشن سے ہے۔ انتخابی نتائج اسرائیل کی آئندہ قیادت کے ساتھ غزہ کے مستقبل، فلسطینیوں سے متعلق پالیسیوں اور ایران کے ساتھ کشیدگی کی سمت پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل کی 120 نشستوں والی پارلیمان، کنیسٹ، میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ انتخابات میں 38 جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، تاہم انتخابی جائزوں کے مطابق تقریباً 11 جماعتوں کے پارلیمان تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اسرائیل میں حکومت عموماً مختلف جماعتوں کے اتحاد سے بنتی ہے، اس لیے کسی ایک جماعت کا سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا بھی اقتدار کی ضمانت نہیں۔ تقریباً 73 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جبکہ 2022 کے گزشتہ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 70.63 فیصد رہا تھا۔ موجودہ جائزوں میں نیتن یاہو کے اتحاد اور اپوزیشن، کسی بھی فریق کے لیے واضح اکثریت یقینی دکھائی نہیں دیتی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اسرائیل میں وزارتِ عظمیٰ پر سب سے طویل عرصے تک فائز رہنے کا ریکارڈ نیتن یاہو کے پاس ہے۔ انتخابی مہم میں جنگی قیادت، قومی سلامتی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلقات کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ مخالفین 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں سے پہلے اور دوران ہونے والی سکیورٹی ناکامیوں پر جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 افراد یرغمال بنائے گئے تھے۔ نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات کا بھی سامنا ہے، اور وہ ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

اپوزیشن کے نمایاں رہنما گادی آئزن کوٹ سابق فوجی سربراہ ہیں اور ان کی جماعت یاشار نیتن یاہو کے اقتدار کو چیلنج کر رہی ہے۔ آئزن کوٹ کی انتخابی مہم میں حکومتی کارکردگی اور سکیورٹی ناکامیوں پر تنقید نمایاں ہے۔ تاہم فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملے پر ان کا مؤقف نیتن یاہو سے بنیادی طور پر مختلف نہیں۔ آئزن کوٹ دو ریاستی حل کی حمایت نہیں کرتے، البتہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد اور انتہائی دائیں بازو کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔

غزہ کا مستقبل انتخابات کا ایک مرکزی معاملہ ہے۔ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے علاقے کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا اور فلسطینی آبادی کو شدید انسانی بحران سے دوچار کیا۔ اب بنیادی سوالات میں حماس کی حکمرانی کا مستقبل، اسلحے کا معاملہ، غزہ کی انتظامیہ، اسرائیلی فوج کی موجودگی اور تعمیرِ نو شامل ہیں۔ نیتن یاہو کی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرکے اس کی حکمرانی ختم کرنا ضروری ہے، جبکہ فلسطینیوں کے لیے قابلِ عمل سیاسی مستقبل اور مستقل جنگ بندی کے امکانات بدستور غیر یقینی ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع بھی اہم مسئلہ ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ان بستیوں کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، تاہم اسرائیل اس مؤقف سے اختلاف کرتا ہے۔ دائیں بازو کی بعض اسرائیلی جماعتیں بستیوں کی توسیع اور علاقے پر اسرائیلی کنٹرول مضبوط کرنے کی حمایت کرتی ہیں۔ ان پالیسیوں سے فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات اور اسرائیل کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

ایران کے معاملے پر بھی قیادت کی تبدیلی سے بنیادی پالیسی میں بڑی تبدیلی یقینی نہیں۔ نیتن یاہو کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ ہے، جبکہ آئزن کوٹ بھی ایران کو فوجی جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے حامی ہیں۔ اختلاف کا اہم پہلو اس مقصد کے حصول کے طریقۂ کار، فوجی کارروائی اور سفارت کاری کے امتزاج میں سامنے آ سکتا ہے۔ امریکا کے ساتھ تعلقات بھی اسی تناظر میں اہم ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور تل ابیب ایران اور غزہ کے معاملات میں قریبی تعاون کرتے رہے ہیں۔

انتخابات میں انتہائی مذہبی جماعتوں کو فوجی سروس سے استثنا، بڑھتے دفاعی اخراجات، زندگی کے اخراجات اور عدلیہ کے اختیارات جیسے داخلی مسائل بھی اہم ہیں۔ نیتن یاہو کی حکومت کو عدالتی اصلاحات پر بڑے عوامی احتجاج کا سامنا رہا ہے، جبکہ فوجی سروس میں مذہبی استثنا کے معاملے پر بھی اسرائیلی معاشرے میں اختلاف موجود ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ووٹنگ کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ آسان نہیں ہوگا۔ اگر کوئی اتحاد 61 نشستوں کی حمایت حاصل نہ کر سکا تو چھوٹی جماعتوں اور عرب جماعتوں کی پارلیمانی پوزیشن اہم ہو سکتی ہے۔ آئزن کوٹ عرب جماعتوں کے ساتھ باضابطہ اتحاد کی مخالفت کر چکے ہیں، جس سے نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے لیے اکثریت جمع کرنا مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ حتمی انتخابی نتائج 4 نومبر تک جاری کیے جانے ہیں، جس کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی مشاورت ہوگی۔

اس انتخاب کا نتیجہ طے کرے گا کہ نیتن یاہو کا اقتدار برقرار رہتا ہے یا اسرائیل نئی قیادت کی طرف بڑھتا ہے۔ تاہم غزہ میں جنگ کے بعد کا انتظام، فلسطینیوں کا سیاسی مستقبل، ایران سے کشیدگی اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں حقیقی تبدیلی کا انحصار صرف قیادت پر نہیں، بلکہ نئی حکومت کے اتحادیوں، پارلیمانی اکثریت اور عملی فیصلوں پر بھی ہوگا۔

Read Previous

اردن کے شام پر فضائی حملے، پانچ افراد جاں بحق، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی

Read Next

دنیا بھر کے کشمیری آج یومِ سیاہ منا رہے ہیں پاکستان کا کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے عالمی برادری سے عملی کردار کا مطالبہ

Leave a Reply