مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اردن نے پڑوسی ملک شام پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں تین بچوں اور ایک خاتون سمیت کم از کم سات افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ حملے جمعے کے روز اردن کے شہر کرک میں ایک مسیحی جنازے پر ہونے والی فائرنگ کے جواب میں کیے گئے، جس میں نو افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اردنی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے شام میں مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جن کا تعلق چرچ پر ہونے والے حملے کے ملزمان سے تھا۔
فوج کے مطابق کارروائی میں متعدد جنگجو مارے گئے یا زخمی ہوئے، جبکہ ان کی کئی گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔
تاہم شام کے شہری دفاع کے ادارے وائٹ ہیلمٹس کے مطابق فضائی حملوں میں عام شہری نشانہ بنے ہیں۔
شامی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ درعا اور سویدا کے دیہی علاقوں میں کم از کم چار مقامات پر بمباری کی گئی۔
درعا کے گاؤں الطائی میں ایک خیمے پر حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں تین بچے، ایک خاتون اور ایک مرد شامل تھے۔
اسی صوبے کے علاقے الشیاح میں ایک 80 سالہ شخص جبکہ سویدا کے شہر شہبا میں ایک 60 سالہ شخص جاں بحق ہوا۔
فضائی کارروائی کے بعد اردن اور شام کے درمیان سفارتی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔
اردن کا دعویٰ ہے کہ حملے شامی حکومت کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت کیے گئے، تاہم دمشق نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے کارروائی سے پہلے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
شام نے حملوں کے بعد اردن کے ساتھ نصیب سرحدی گزرگاہ بند کر دی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مسافروں اور تجارتی سامان کی آمدورفت معطل ہو گئی ہے۔
دوسری جانب اردنی سکیورٹی فورسز نے چرچ پر حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں دو بھائیوں اور ان کے بہنوئی کو گرفتار کیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتاری سے قبل تقریباً تین گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں تینوں مشتبہ افراد شدید زخمی ہوئے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے چرچ پر حملے کے ذمہ داروں کو سخت ترین سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر شامی وزارتِ خارجہ نے فضائی کارروائی کو غداری پر مبنی حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کی خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے اس معاملے کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی کوشش کرے گی۔
دونوں ممالک کے درمیان یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی علاقائی تنازعات کا سامنا کر رہا ہے۔
