مراکش کی اسلامی اصلاحی تحریک ’’حرکت التوحید والاصلاح‘‘ نے ڈاکٹر محمد البراہیمی کو 2026 سے 2030 تک کے لیے اپنا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ 47 سالہ البراہیمی کا انتخاب تحریک کے آٹھویں قومی اجتماع میں عمل میں آیا، جہاں انہوں نے 352 ووٹ حاصل کرکے اکثریت حاصل کی اور سابق صدر ڈاکٹر اوس رمال کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب تحریک اپنی تیس سالہ تاریخ کے بعد تنظیمی ڈھانچے پر نظرثانی اور آئندہ چار سال کی ترجیحات متعین کر رہی ہے۔

مراکش کے شہر بوزنیکہ میں 23 سے 25 اکتوبر تک منعقد ہونے والے تین روزہ آٹھویں قومی اجتماع میں ملک بھر سے 600 سے زائد مندوبین نے شرکت کی، جبکہ پاکستان، فلسطین، تیونس، برطانیہ، سوڈان، نائجر اور مالی سمیت مختلف ممالک سے آنے والے مہمانوں نے بھی اس میں حصہ لیا۔ اجتماع میں نئی قیادت کے انتخاب کے ساتھ تنظیمی ڈھانچے، داخلی قواعد اور آئندہ حکمتِ عملی کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ مندوبین نے تنظیمی ماڈل میں اہم تبدیلیوں اور ترمیم شدہ اسٹریٹجک منصوبے کی منظوری بھی دی۔ صدارت کے لیے ابتدائی مرحلے میں پانچ امیدوار سامنے آئے، جن میں اوس رمال، رشید العدونی، عبدالرحیم شیخی، محمد البراہیمی اور الحسین الموس شامل تھے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اجتماع میں شریک نمایاں بین الاقوامی شخصیات میں انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے نائب صدر ڈاکٹر عصام البشیر، معروف موریتانی عالم شیخ محمد الحسن الددو، اسلامی مفکر ڈاکٹر عبدالمجید النجار اور سینیگال کی جماعت عبد الرحمن کے نائب امیر ڈاکٹر طالا مبینگی شامل تھے، جبکہ پاکستان کی جماعتِ اسلامی کے شعبۂ امورِ خارجہ کے ڈائریکٹر عاصف لقمان قاضی نے بھی شرکت کی۔ قاضی نے اجتماع کے شعار ’’بالاستقامۃ ینھض الوطن، وبالمقاومۃ تعزّ الامۃ‘‘ یعنی ’’استقامت سے وطن ترقی کرتا ہے اور مزاحمت سے امت کو عزت ملتی ہے‘‘ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پیغام وطن سے محبت اور امتِ مسلمہ سے وابستگی کو یکجا کرتا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں مراکش کی نوآبادیاتی مزاحمت کی تاریخ اور اس کے معروف رہنما محمد بن عبد الکریم الخطابی کا حوالہ دیا۔ ڈاکٹر عصام البشیر نے اپنے خطاب میں امت کی فکری اصلاح کو ضروری قرار دیا، جبکہ عالمی اتحاد برائے القدس و فلسطین کے نمائندے منیر سعید نے فلسطینی عوام کے لیے مزید حمایت اور غزہ کی صورتِ حال پر توجہ دینے پر زور دیا۔

مراکش کی سیاسی و فکری شخصیات میں سابق وزیراعظم سعدالدین العثمانی، جماعتِ انصاف و ترقی کے سربراہ عبدالالہ بنکیران، سابق وزیر مصطفیٰ الرمید، معروف عالم اور تحریک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر احمد الریسونی، سابق وزیر محمد الخلیفہ اور جماعتِ عدل و احسان کے رہنما بھی اجتماع میں شریک ہوئے۔ ان شخصیات کی موجودگی نے اس اجتماع کو تنظیمی انتخابات کے ساتھ مراکش کے اسلامی، سیاسی اور فکری حلقوں کے درمیان روابط کے ایک اہم موقع کی حیثیت بھی دی۔
محمد البراہیمی تحریک کے تنظیمی اور دعوتی امور میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ 2013 سے اس کی مجلسِ عاملہ کے رکن ہیں اور گزشتہ دور میں شعبۂ دعوت و ثقافت کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں، جبکہ مرکزی شعبۂ نوجوانان سے وابستگی کے علاوہ طلبہ تنظیم ’’التجدید الطلابی‘‘ کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے 2012 میں جامعہ محمد اول، وجدة سے فقہ اور اصولِ فقہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انتخاب کے بعد اپنے بیان میں البراہیمی نے کہا کہ انہیں اس مرحلے پر اپنی نامزدگی اور انتخاب کی توقع نہیں تھی، تاہم اب تحریک کو متعدد چیلنجز اور اہم مراحل کا سامنا ہے اور وہ مندوبین کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے دعا، عزم اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔

حرکت التوحید والاصلاح کی موجودہ تنظیمی شکل 31 اگست 1996 کو دو اصلاحی تنظیموں، ’’حرکت الاصلاح والتجدید‘‘ اور ’’رابطۃ المستقبل الاسلامی‘‘ کے انضمام سے سامنے آئی تھی۔ تحریک کی سرگرمیوں میں دینی و اخلاقی تربیت، سماجی اصلاح، اسلامی اقدار کا فروغ اور نوجوانوں کی فکری و اخلاقی رہنمائی شامل ہیں۔ جماعتِ انصاف و ترقی کے ساتھ اس کے تاریخی اور فکری روابط کے باوجود دونوں الگ ادارے ہیں؛ تحریک دعوت و اصلاح پر توجہ دیتی ہے، جبکہ جماعتِ انصاف و ترقی انتخابی سیاست میں حصہ لیتی ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اجتماع کے افتتاحی خطاب میں سبکدوش ہونے والے صدر اوس رمال نے مراکش کے قومی معاملات کے ساتھ فلسطین کی حمایت اور معمول کے تعلقات قائم کرنے کے عمل کی مخالفت پر تحریک کا مؤقف دہرایا۔ اختتامی اعلامیے میں فلسطینی عوام کے حقِ مزاحمت، غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور انسانی بحران کی مذمت، بدعنوانی اور مفادات کے ٹکراؤ کے خاتمے، تعلیم و تربیت میں اقدار کے فروغ، نوجوانوں اور بچوں کے تحفظ، عربی زبان کی اہمیت اور امازیغی زبان کی سرکاری حیثیت کو مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔ اعلامیے میں قومی خودمختاری اور مراکش کے زیرِ انتظام مغربی صحارا سے متعلق تحریک کا مؤقف بھی دہرایا گیا۔
محمد البراہیمی کی صدارت میں تحریک کے آئندہ چار سال تنظیمی اصلاحات، نوجوانوں سے روابط اور دعوتی و تربیتی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم ہوں گے۔ آٹھویں قومی اجتماع میں نئی قیادت کے انتخاب اور تنظیمی ترجیحات کی منظوری کے ساتھ مختلف ممالک کے اسلامی علما، سیاسی شخصیات اور فکری نمائندوں کی شرکت نے اس اجتماع کو بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں کیا۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ نئی قیادت اجتماع میں منظور کی گئی ترجیحات کو عملی اقدامات میں کس طرح ڈھالتی ہے۔
