Turkiya-Logo-top

پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات میں نیا باب، 20 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ

11 سال بعد مالدیپ کے صدر کے دورۂ پاکستان نے دوطرفہ تجارت 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کے ساتھ دفاع، معیشت، صحت اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھول دیں۔

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 سے 22 اکتوبر تک سرکاری دورے پر پاکستان میں ہیں۔ خاتونِ اول ساجدہ محمد، کابینہ ارکان اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں ان کا باضابطہ خیرمقدم کیا، جہاں پاکستان کی مسلح افواج کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن کے بعد مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے 20 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

معاہدوں میں دفاع، بحری سلامتی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، صحت، تعلیم، زراعت، ماہی گیری، سیاحت، ماحولیاتی تحفظ، پولیس تربیت اور نوجوانوں کی ترقی سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے طبی عملے، تکنیکی تربیت، ادویات کے ضابطہ جاتی امور اور فضائی رابطوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اعلان کیا کہ دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو سال میں موجودہ 13.9 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کی صدر معیزو نے بھی حمایت کی۔ 22 اکتوبر کو ہونے والا پاکستان۔مالدیپ بزنس فورم کاروباری روابط اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرے گا۔ پاکستان نے مالدیپ کو ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں تکنیکی معاونت کی پیشکش بھی کی ہے، جبکہ براہِ راست فضائی رابطوں سے تجارت اور سیاحت کو فروغ دینے پر بات چیت ہوئی۔

صحت و تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے تحت پاکستان نے مالدیپ کی ضروریات کے مطابق مزید طبی ماہرین فراہم کرنے اور تعلیمی مواقع بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس وقت تقریباً 250 پاکستانی ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل عملے کے ارکان مالدیپ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ماحولیاتی تعاون کے تحت پاکستان مالدیپ کے پانچ ملین درخت لگانے کے منصوبے کے لیے ایک لاکھ زیتون کی قلمیں اور مختلف اقسام کے ایک لاکھ بیج بھی فراہم کرے گا۔

مذاکرات میں فلسطین، مقبوضہ جموں و کشمیر اور علاقائی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ وزیراعظم پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت دہرائی، جبکہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اقدام پر تحفظات ظاہر کیے۔ صدر معیزو نے مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور سارک کی بحالی پر زور دیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

دورے کے دوران پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی صدر معیزو سے ملاقات کی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ صدر معیزو نے پاکستان کی جانب سے پرتپاک استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک چھ دہائیوں کی دوستی کو مضبوط شراکت داری میں بدلتے ہوئے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ دورے کے پروگرام میں صدر پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات اور ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت بھی شامل ہے۔

20 معاہدوں اور 200 ملین ڈالر کے تجارتی ہدف کے ذریعے دونوں ممالک نے تعلقات کو نئی سمت دینے کا عزم ظاہر کیا ہے اب ان معاہدوں پر عمل درآمد اور طے شدہ اہداف کا حصول اہم مرحلہ ہوگا۔

Read Previous

پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش اعلانِ جنگ تصور ہوگی، شہباز شریف

Read Next

"تعاون کو چار ملکی سطح پر آگے بڑھانے کا موقع "، پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان ’بدر‘ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟

Leave a Reply