Turkiya-Logo-top

ترکیہ جلد پاکستانی سمندری حدود میں تیل و گیس کی کھدائی شروع کرے گا

ترکیہ کی سرکاری توانائی کمپنی ترکش پیٹرولیم کارپوریشن پاکستان کی سمندری اور زمینی حدود میں تیل و گیس کی تلاش کے منصوبے پر کام آگے بڑھا رہی ہے مختلف بلاکس میں سرگرمیاں 2026 کے دوران شروع ہونے کی توقع ہے۔

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تین آف شور اور دو آن شور ہائیڈروکاربن بلاکس میں تلاش کے معاہدوں پر پیش رفت جاری ہے

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے جس کے باعث مقامی تیل و گیس کی تلاش کو تیز کرنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت یومیہ تقریباً 70 ہزار بیرل تیل پیدا ہوتا ہے ملکی طلب تقریباً 5 لاکھ بیرل یومیہ ہے حکومت کا مقصد مقامی ذخائر کی تلاش اور نئی سرمایہ کاری کے ذریعے درآمدی انحصار کو کم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک عالمی کمپنی کو پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرنے کی ذمہ داری دی ہے جسے آئندہ چند ماہ میں قیادت کے سامنے پیش کیا جائے گا

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

دسمبر 2025 میں TPAO نے پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ تین آف شور اور دو آن شور شعبوں میں تیل و گیس کی تلاش سے متعلق معاہدے کیے تھے۔

ان شراکت داریوں میں ماری انرجیز، فاطمہ گروپ، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پرائم اور جی ایچ پی ایل شامل ہیں

ترکیہ کے وزیر توانائی و قدرتی وسائل الپ ارسلان بایراکتار نے اس وقت کہا تھا کہ TPAO 2026 میں پاکستان کے ان پانچ شعبوں میں تیل اور قدرتی گیس کی تلاش شروع کرے گی بعض علاقوں میں پہلے سیسمک سروے کیے جائیں گے کچھ مقامات پر سروے کے بعد براہِ راست ڈرلنگ کا عمل شروع کیا جائے گا۔

ترکیہ کی کمپنی شراکت داری کے تحت ان پانچ شعبوں کے لائسنس حاصل کرے گی جبکہ ایک منصوبے میں TPAO آپریٹر کا کردار بھی ادا کرے گی۔

ترک وزیر نے یہ بھی امید ظاہر کی تھی کہ ترکیہ کے سیسمک ریسرچ بحری جہاز پاکستان کے پانیوں میں پہنچیں گے جس سے دونوں ممالک کے توانائی تعاون کو مزید عملی شکل مل سکتی ہے

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

تیل و گیس کے علاوہ ترکیہ پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے

ترک حکام کے مطابق سرکاری کمپنیاں MTAIC اور Eti Maden پاکستان میں معدنی منصوبوں اور نئی شراکت داریوں میں مزید فعال کردار ادا کریں گی۔

الپ ارسلان بایراکتار کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

دونوں ممالک توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں اور مشترکہ خریداری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ ترک حکام کے مطابق توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں نئی شراکت داریاں دوطرفہ تجارت کے مقررہ ہدف کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

پاکستان کے لیے مقامی تیل و گیس کی تلاش درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے کے حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ اگر نئے بلاکس میں قابلِ تجارتی ذخائر دریافت ہوتے ہیں تو اس سے ملک کی توانائی ضروریات، درآمدی بل اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

اسی طرح ترکیہ کی TPAO کی شمولیت دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور توانائی تعاون کو ایک نئے مرحلے میں لے جا سکتی ہے۔

Read Previous

کراچی میں طلبہ کے لیے تحقیق اور مطالعے کے مواقع کو مزید بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔

Read Next

وزیر اعظم شہباز شریف کا ترک رکنِ پارلیمنٹ علی شاہین کے بیٹے کی شادی پر خصوصی پیغام، سفیر یوسف جُنید نے وزیراعظم کی جانب سے نمائندگی کی۔

Leave a Reply