ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی اور سیکیورٹی آپریشنز سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے حالات کے بارے میں جان بوجھ کر منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بدامنی کے پیچھے مخصوص عناصر اور بعض بااثر سرداروں کا کردار موجود ہے
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے کہا کہ کچھ سردار ریاست پر دباؤ ڈال کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے بقول ایسے عناصر چاہتے ہیں کہ انہیں ریاستی وسائل میں حصہ دیا جائے ورنہ دہشتگردی کے ذریعے دباؤ بڑھایا جائے گا ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ بعض سردار دہشتگردی میں براہِ راست ملوث ہیں جبکہ غیر قانونی کاروبار، ڈیزل اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے معاملات بھی بعض بااثر شخصیات سے منسلک ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری ہیں اور شدت پسندوں کے پاس صرف دو راستے ہیں ہتھیار ڈال دیں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کا سامنا کریں۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال اب تک ملک بھر میں انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کے دوران 2,048 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری قربانیاں دی ہیں اور اس سال اب تک 819 پاکستانی شہید ہوئے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شہداء میں پاک فوج کے 303 جوان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 194 اہلکار جبکہ 322 عام شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف اپنی جنگ پوری سنجیدگی سے لڑ رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید دعویٰ کیا کہ دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کی بڑی تعداد افغان باشندوں پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق شدت پسندوں کو اب یہ احساس ہو چکا ہے کہ ریاست ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہماری پہلی اور آخری شناخت ہے ریاست کا وجود ہی شہریوں، سیاست اور قومی سلامتی کی بنیاد ہے اس لیے ملک کے استحکام اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خاتمے اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا
