بھارت کے وزیرِ مملکت برائے ریلوے و فوڈ پروسیسنگ روی نیت سنگھ بٹّو نے فلم "ستلج” میں کیے گئے 25 ہزار لاپتا یا مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر جلائے گئے افراد کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سے مکمل دستاویزی شواہد، سرکاری ریکارڈ، عدالتی فیصلے اور مستند اعداد و شمار عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اپنے جاری کردہ بیان میں روی نیت سنگھ نے کہا کہ تخلیقی آزادی کے نام پر متنازع دعوؤں کو ثابت شدہ تاریخی حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق پنجاب کی تاریخ ایک حساس باب ہے جسے یکطرفہ انداز میں بیان کرنا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر فلم ساز 25 ہزار افراد سے متعلق اپنے دعوے کے حق میں قابلِ اعتماد دستاویزی ثبوت اور سرکاری ریکارڈ پیش کر دیتے ہیں تو وہ عوام سے معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو اس معاملے میں قانونی اور آئینی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
روی نیت سنگھ بٹّو نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر مذکورہ تعداد کسی حتمی عدالتی فیصلے یا سرکاری تصدیق پر مبنی نہیں تو اسے فلم میں مصدقہ تاریخی حقیقت کے طور پر کیوں پیش کیا گیا اور ناظرین کو اس حوالے سے وضاحت کیوں نہیں دی گئی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے مزید کہا کہ فلم میں پنجاب میں دہشت گردی کے دور کے کئی اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق عام شہریوں، بس مسافروں، دکانداروں، سرکاری ملازمین، سکیورٹی فورسز، دہشت گردی کے خلاف جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں اور متاثرہ خاندانوں کی قربانیوں کو بھی مساوی اہمیت دی جانی چاہیے۔
بٹّو کا کہنا تھا کہ تاریخ کے صرف ایک رخ کو نمایاں کرنا اور دیگر متاثرین کی تکالیف کو نظر انداز کرنا درست طرزِ عمل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ متنازع اعداد و شمار کو ناقابلِ تردید حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ان کی اصل حیثیت واضح کی جانی چاہیے۔
انہوں نے فلم سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مناسب وقت کے اندر 25 ہزار افراد کے دعوے کی مکمل دستاویزی بنیاد عوام کے سامنے پیش کریں۔ بصورتِ دیگر عوام کو واضح طور پر بتایا جانا چاہیے کہ یہ تعداد سرکاری طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
یاد رہے کہ ستلج مووی بھارتی پلیٹ فارم زی فائیو پر ریلیز کے اڑتالیس گھنٹوں بعد ہٹادی گئی تھی جس کے بعد بھارتی پنجاب میں سکھ کمیونٹی کی طرف سے سخت رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے
