دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے حالیہ مہینوں میں اپنے متعدد الیکٹرانک آلات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد صارفین میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ آخر اچانک یہ مہنگائی کیوں دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اگرچہ ہر نیا ماڈل پہلے سے بہتر خصوصیات کے ساتھ آتا ہے، لیکن اس بار قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ صرف نئے فیچرز نہیں بلکہ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے معاشی اور تکنیکی حالات ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایپل کی مصنوعات میں استعمال ہونے والے بنیادی پرزہ جات، خصوصاً میموری اور اسٹوریج چپس، گزشتہ ایک سال کے دوران غیر معمولی حد تک مہنگی ہو چکی ہیں۔ یہی وہ چپس ہیں جو موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور دیگر سمارٹ آلات کا مرکزی حصہ ہوتی ہیں۔ عالمی منڈی میں ان چپس کی مانگ میں اچانک اضافے نے سپلائی کو محدود کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اس مانگ میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی ہے۔ دنیا بھر میں بڑے ڈیٹا مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے نظام کو چلانے کے لیے بے پناہ مقدار میں میموری اور پروسیسنگ چپس استعمال کرتے ہیں۔ ان ڈیٹا مراکز نے بڑی تعداد میں وہی پرزے خریدنا شروع کر دیے ہیں جو عام صارفین کے آلات میں استعمال ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں چپس کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایپل کے کچھ آلات پر قیمتوں میں دس فیصد سے لے کر تیس فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ بعض ماڈلز پر یہ اضافہ چند سو ڈالر تک محدود ہے، جبکہ کچھ جدید آلات کی قیمتوں میں ہزار ڈالر سے زائد فرق بھی دیکھا جا رہا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ وہ کافی عرصے تک بڑھتی ہوئی لاگت کو خود برداشت کرتی رہی تاکہ صارفین پر بوجھ نہ پڑے، تاہم اب حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ قیمتیں برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ فی الحال ایپل کے کچھ مقبول موبائل فون ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وقتی اقدام ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں جب نئے فونز متعارف کرائے جائیں گے تو ان کی قیمتیں پہلے سے نمایاں طور پر زیادہ ہو سکتی ہیں، کیونکہ لاگت میں کمی کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال صرف ایپل تک محدود نہیں بلکہ پوری ٹیکنالوجی انڈسٹری اسی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ تاہم ایپل چونکہ پریمیم مصنوعات تیار کرتا ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافہ زیادہ نمایاں محسوس ہو رہا ہے۔ سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ مہنگائی وقتی ہے یا پھر مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی صرف مخصوص طبقے تک محدود ہو جائے گی۔
فی الحال صارفین کے لیے یہی مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ نئی خریداری سے قبل مارکیٹ کے رجحانات کو غور سے دیکھیں، کیونکہ آنے والے مہینوں میں الیکٹرانک آلات مزید مہنگے ہونے کا امکان موجود ہے۔
