صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی کمپلیکس میں منعقدہ روایتی "ماہِ محرم افطاری” کی تقریب میں شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سانحہ کربلا کے دکھ، ملتِ اسلامیہ کی وحدت، اور ترکیہ میں علوی برادری (Alevi Community) کے لیے کی جانے والی سرکاری خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا۔
صدر ایردوان نے یومِ عاشورہ کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ کے دلوں میں کربلا کا زخم آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا 14 صدیاں پہلے تھا۔
انہوں نے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے 70 سے زائد رفقاء کار کو ان کی شہادت کی 1387 ویں برسی پر انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ یاد کیا اور ان کے لیے دعائیں کیں۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ہم آج بھی کربلا کا درد اپنے دل میں لیے ہوئے ہیں۔ ہم آج بھی کربلا کا غم، کرب اور اداسی اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بھلے ہی ہجری سال 61 کے 10 محرم کو زمین پر معصوم جسم لہو لہان کر دیے گئے اور خیموں کو آگ لگا دی گئی، لیکن پھر بھی حق اور حقیقت کبھی مغلوب نہیں ہوئی۔ اہل بیت کی محبت کا چراغ امت کے دلوں میں ہمیشہ روشن رہے گا۔
صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ اہل بیت سے محبت اور وابستگی ان کی قوم کی اصل بنیاد اور روحانی اقدار ہے۔ اناطولیہ کا ہر گوشہ اسی محبت اور عشق سے زندہ و جاوید ہے۔

صدر نے ملت کے درمیان نفاق ڈالنے والی قوتوں کے خلاف اتحاد پر زور دیتے ہوئے قرآنی تعلیمات اور احادیث کا حوالہ دیا۔
انہوں نے سورہ آل عمران کی آیت کا حوالہ دیا: "اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔” انہوں نے کہا کہ یہ الٰہی حکم ہر قسم کی تفرقہ بازی اور سازشوں کے خلاف مسلمانوں کی سب سے مضبوط ڈھال ہے۔
انہوں نے حدیثِ مبارکہ کا ذکر کیا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک ایسی عمارت کی مانند ہے جس کی اینٹیں ایک دوسرے کو مضبوطی فراہم کرتی ہیں۔

خطاب کے دوسرے بڑے حصے میں صدر ایردوان نے اپنی حکومت کی طرف سے علوی اور بکتاشی برادری (Alevi-Bektashi community) کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کی تفصیلات بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ جب سے انہوں نے حکومت سنبھالی ہے، انہوں نے مذہب، فرقے، یا نظریے کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا اور سب کو صوفی بزرگ "یونس ایمرے” کی نظر سے دیکھا ہے۔
2022 میں قائم کردہ "علوی بکتاشی ثقافت اور جمیوی پریزیڈنسی” کے تحت جمیوی (علوی عبادت گاہوں) کی خدمات کو منظم اور فعال بنایا گیا ہے۔
اس وقت ملک بھر میں 1,133 جمیوی (Cemevis) کے بجلی اور روشنی کے اخراجات حکومت برداشت کر رہی ہے۔
گزشتہ 3 سالوں میں 533 جمیویوں کی مرمت، دیکھ بھال اور فرنشنگ کے لیے 800 ملین ترک لیرا کی خطیر رقم فراہم کی گئی۔
سال 2026 کے آخر تک مزید 500 جمیویوں کو مختلف سرکاری خدمات فراہم کر دی جائیں گی، جبکہ مارچ 2026 سے 311 جمیویوں کی درخواستوں پر کارروائی شروع ہو چکی ہے۔
6 فروری 2023 کے تباہ کن زلزلے سے متاثرہ 11 صوبوں میں 113 جمیویوں کی ضروریات کو حکومت نے پورا کیا ہے۔ اس کے علاوہ 7 صوبوں میں تباہ یا شدید متاثر ہونے والی 13 جمیویوں کی دوبارہ تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے خطاب کے آخر میں دعا کی کہ محرم الحرام کے روزے اور یہ بابرکت مہینہ مسلم امہ اور ترکیہ کے مابین اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بنے۔ انہوں نے تقریب میں آنے والے تمام مہمانوں اور علوی برادری کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس کے علاوہ، صدر رجب طیب ایردوان نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم "X” پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا:
"میں اپنے رب سے دعا کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ اور محرم کا مہینہ ہم سب کے لیے خیر کا باعث بنے۔
سردارِ شہدا، شاہِ کربلا حضرت حسینؓ اور ان کے ستر سے زائد ساتھیوں کی شہادت کے 1,387ویں برسی کے موقع پر ان کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں”
