Turkiya-Logo-top

توانائی اور بجلی کے شعبے میں پاک-ترک اسٹریٹجک شراکت داری: استنبول میں معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے

پاکستان کے شعبہ توانائی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے اور بجلی کے ترسیلی و تقسیمی نظام کو جدید بنانے کے لیے استنبول میں ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں پاکستان اور ترکیہ کے مابین باضابطہ طور پر تین بڑے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ترکیہ نے گزشتہ 23 برسوں میں اپنے بجلی کے نظام کو تین گنا بڑھایا ہے۔ اس موقع پر ترک حکام نے نجکاری کے کامیاب ماڈل کے تجربات کو مکمل طور پر پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے اور ہر ممکن تکنیکی و ادارہ جاتی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترکیہ کے وزیر برائے توانائی و قدرتی وسائل الپ ارسلان بائراکتار (Alparslan Bayraktar) نے استنبول میں پاکستانی وفد کی میزبانی کی، جس کی قیادت مندرجہ ذیل وزراء کر رہے تھے:

  • محمد علی – وفاقی وزیر برائے نجکاری
  • سردار اویس لغاری – وفاقی وزیر برائے توانائی و امورِ بجلی

ملاقات کے بعد دونوں ممالک کی سرکاری و نجی کمپنیوں کے مالکان، سرمایہ کاروں اور اعلیٰ حکام کے مابین ایک گول میز کانفرنس بھی منعقد ہوئی جس میں مستقبل کی سرمایہ کاری پر تفصیلی غور کیا گیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

پاکستانی اور ترک کمپنیوں کے مابین ہونے والے معاہدوں کا مقصد پاکستان کے پاور سیکٹر کی نگرانی، آپریشنل صلاحیت، مارکیٹ ریگولیشن اور ڈیجیٹلائزیشن کو بہتر بنانا ہے۔ ان معاہدوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ TEDAŞ اور PPMC کے مابین تعاون کا پروٹوکول
فریقین: ترکیہ کی الیکٹرک ڈسٹری بیوشن کمپنی (TEDAŞ) اور پاکستان کی پاور ہولڈنگ/مینجمنٹ کمپنی (PPMC)۔
مقصد: پاکستان کی بجلی کی ڈسٹریبیوٹر کمپنیوں (DISCOs) کی مانیٹرنگ اور آپریشنل افعال کو مضبوط بنانا۔ اس کے علاوہ، بجلی کے شعبے کے ملازمین کے لیے ورچوئل رئیلٹی (VR) پر مبنی جدید ترین ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔

2۔ TEİAŞ اور ISMO کے مابین مفاہمت کی یادداشت (MoU)
فریقین: ترکیہ کی الیکٹرک ٹرانسمیشن کمپنی (TEİAŞ) اور پاکستان کی انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کمپنی (ISMO)۔
مقصد: بجلی کے ترسیلی نظام (Transmission System) کو چلانے، استعداد کار میں اضافے (Capacity Building) اور تکنیکی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے مشترکہ کام کرنا۔

3۔ EPİAŞ اور ISMO کے مابین مفاہمت کی یادداشت (MoU)
فریقین: ترکیہ کی انرجی ایکسچینج کمپنی (EPİAŞ) اور پاکستان کی ISMO۔
مقصد: پاکستان میں بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کے ڈیزائن (Electricity Market Design) کو بہتر بنانا، ادارہ جاتی صلاحیت کو بڑھانا اور توانائی کے شعبے کے تمام عمل کو ڈیجیٹلائز کرنا۔

ترک وزیر برائے توانائی و قدرتی وسائل، الپ ارسلان بائراکتار نے پاکستانی وفد کو یقین دہانی کروائی کہ بجلی کے شعبے کی نجکاری کا عمل انتہائی حساس اور اہم ہے، اور ترکیہ اپنے تمام تر تجربات پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔ انہوں نے کہا:
"پاکستان کے بجلی کے شعبے کی نجکاری کے اس اہم اور نازک عمل میں ہم اپنے تجربات کو آخری حد تک شیئر کریں گے اور آپ کی مدد کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔ میں خود نجکاری کے عمل پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور جس طرح ترکیہ نے گزشتہ 23 سالوں میں اپنے انفراسٹرکچر کو 3 گنا بڑھا کر کامیابی حاصل کی، میں ویسی ہی کامیابی پاکستان میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدے دونوں ممالک کے تکنیکی اور ادارہ جاتی روابط کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے اور علاقائی توانائی کی سیکیورٹی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

پاکستانی وفد نے ترکیہ کے پاور سیکٹر ریڈیزائننگ اور نجکاری کے ماڈل کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان معاہدوں کی بدولت پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے، بجلی چوری کی روک تھام، ترسیلی نقصانات میں کمی اور صارفین کو سستی و بلاتعطل بجلی کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

اس اسٹریٹجک تعاون اور ترک کمپنیوں کی پاکستان کے پاور سیکٹر میں براہ راست آمد سے درج ذیل مثبت نتائج متوقع ہیں:

سرمایہ کاری کے مواقع: ترک کمپنیاں پاکستان کے پاور ڈسٹری بیوشن سیکٹر میں سرمایہ کاری کریں گی، جس سے بجلی کا نظام نجی شعبے کے جدید اصولوں کے مطابق چلے گا۔

مارکیٹ ریگولیشن: پاکستان میں ایک شفاف اور مسابقتی بجلی کی مارکیٹ وجود میں آئے گی جہاں بجلی کی خرید و فروخت جدید ڈیجیٹل طریقوں سے ہوگی۔

تکنیکی ترقی: VR ٹریننگ اور جدید مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے پاکستانی پاور سیکٹر کے انسانی وسائل عالمی معیار کے مطابق تربیت یافتہ ہوں گے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

Read Previous

انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا میں مسلم پرسنل لا کے دفاع پر ثناء ملک تنقید کی زد میں

Leave a Reply