کینیڈا نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے 27ویں میچ میں قطر کو 0-6 سے شکست دے کر اپنی ورلڈ کپ تاریخ کی سب سے بڑی فتح حاصل کر لی، تاہم اس تاریخی کامیابی کو ایک دل دہلا دینے والے حادثے نے پھیکا کر دیا۔
کینیڈا کے ہوم گراؤنڈ پر 52 ہزار سے زائد شائقین اپنی ٹیم کی شاندار کارکردگی کا جشن منا رہے تھے کہ کھیل کے 53ویں منٹ میں ایک ہولناک منظر نے پورے اسٹیڈیم کو خاموش کر دیا۔ کینیڈا کے مڈفیلڈر اسماعیلی کونے قطر کے کھلاڑی عاصم مادیبو کے ایک سخت ٹیکل کا نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں ان کی ٹانگ کی تائبیا اور فائیبولا ہڈیاں بری طرح فریکچر ہو گئیں۔
طبی عملے نے فوری طور پر میدان میں پہنچ کر کونے کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جس کے بعد انہیں ہنگامی بنیادوں پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی میجر سرجری کی گئی۔ واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میدان میں موجود کئی کھلاڑی جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اسٹیڈیم میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
ریفری نے خطرناک فاؤل پر عاصم مادیبو کو فوری طور پر ریڈ کارڈ دکھایا۔ بعد ازاں قطری کھلاڑی کینیڈا کے ڈریسنگ روم پہنچے اور آبدیدہ ہو کر اسماعیلی کونے اور ان کے ساتھیوں سے معذرت بھی کی۔
اگرچہ کینیڈا نے میچ 0-6 سے جیت کر اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ورلڈ کپ فتح اپنے نام کی، لیکن اس خوفناک انجری نے اسماعیلی کونے کے مستقبل پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کھیل کے ماہرین کے مطابق ایسی سنگین چوٹ کسی بھی کھلاڑی کے کیریئر کو متاثر کر سکتی ہے اور اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا کونے دوبارہ پہلے جیسی فارم کے ساتھ میدان میں واپسی کر سکیں گے یا نہیں۔
فٹبال کی تاریخ ایسے دردناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔ 1982 کے ورلڈ کپ میں فرانس کے پیٹرک بیٹسٹن جرمن گول کیپر ہیرالڈ شوماکر کے خوفناک تصادم کے بعد بے ہوش ہو گئے تھے، جبکہ 2008 میں آرسنل کے اسٹرائیکر ایڈوارڈو کی اوپن فریکچر انجری نے ان کے کیریئر کا رخ بدل دیا۔ اسی طرح تین مرتبہ بیلن ڈی اور جیتنے والے مارکو وین باسٹن کو مسلسل ٹخنوں کی تکلیف کے باعث صرف 28 سال کی عمر میں فٹبال کو خیرباد کہنا پڑا، جبکہ فرانسیسی اسٹار جبریل سیسے بھی اپنی دونوں ٹانگوں کے سنگین فریکچر کا شکار ہو چکے ہیں۔
تاہم اس دردناک واقعے کے بعد کینیڈا کی ٹیم نے جس اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اس نے شائقین کے دل جیت لیے۔ ناتھن سالیبا نے گول کرنے کے بعد اسماعیلی کونے کی نمبر 8 جرسی فضا میں بلند کر کے اپنے زخمی ساتھی کو خراجِ تحسین پیش کیا، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ جذبات، قربانی اور بھائی چارے کی ایسی داستان ہے جہاں درد بھی ٹیموں کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنا دیتا ہے۔
