Turkiya-Logo-top

فٹ بال کا انوکھا فین: 90 منٹ تک ‘بت’ بننے والا کانگو کا ‘اسٹیچو مین’

دنیا بھر میں فٹ بال کے شائقین اپنی ٹیموں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے نعرے بازی کرتے ہیں، ڈرم بجاتے ہیں، اچھلتے کودتے ہیں اور بعض اوقات پورا اسٹیڈیم سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ فٹ بال کے میدان میں نوے منٹ تک کھلاڑیوں کا تیز رفتاری سے بھاگنا، پسینہ بہانا اور گول کے لیے پچ پر لڑنا تو ایک عام سی بات ہے… لیکن کیا آپ نے کبھی دنیا میں کسی ایسے فین کا تصور کیا ہے جو اپنی ٹیم کو جوش دلانے کے لیے نوے منٹ تک بالکل خاموش اور پتھر کا بت بن کر کھڑا رہے؟ جی ہاں، افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (DR Congo) سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے ہی سپرفین نے اس وقت دنیا بھر کے کھیلوں کے پنڈتوں اور کروڑوں شائقین کو حیرت زدہ کر رکھا ہے۔ جہاں ہر گول پر پورا اسٹیڈیم پاگلوں کی طرح جھوم اٹھتا ہے، وہاں کانگو کا یہ "اسٹیچو مین”، مائیکل نکوکا (جنہیں پیار سے لوممبا ویا بھی کہا جاتا ہے)، اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلتے۔ اسٹیڈیم کے اسٹینڈز میں بنے ایک چھوٹے سے چبوترے پر سوٹ بوٹ پہن کر، ہاتھ ہوا میں لہرائے کھڑے اس شخص کی نہ پلکیں جھپکتی ہیں، نہ جسم میں کوئی لرزش آتی ہے اور نہ ہی پاؤں ڈگمگاتے ہیں!!!!


مائیکل نکوکا کی یہ دیوانگی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ سال 2013 سے کانگو کے مقامی فٹ بال میچز اور گھریلو ٹورنامنٹس میں اسی طرح بت بن کر کھڑے ہونے کی روایت نبھا رہے ہیں۔ تاہم، انہیں عالمی سطح پر شہرت کی بلندیاں سال 2025 کے افریقہ کپ آف نیشنز (AFCON) کے دوران حاصل ہوئیں۔ اس میگا ایونٹ میں انہوں نے ایک ایسا عالمی ریکارڈ قائم کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ مائیکل کانگو کے تمام میچز کے دوران، مجموعی طور پر 438 منٹ تک مسلسل ایک ہی پوزیشن میں، بغیر ہلے جلے ساکت کھڑے رہے۔ ان کا یہ انداز محض کوئی تماشہ یا سستی شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا تاریخی اور جذباتی پسِ منظر چھپا ہے۔ مائیکل دراصل کانگو کی آزادی کے عظیم ہیرو اور پہلے وزیرِ اعظم "پیٹرس لوممبا” کے دارالحکومت کنشاسا میں نصب تاریخی مجسمے کا روپ دھارتے ہیں، تاکہ وہ دنیا کو اپنے ملک کے لیے امن اور اپنی ٹیم کے لیے طاقت کا پیغام دے سکیں۔

مائیکل کے اس لازوال اور منفرد جذبے نے نہ صرف سوشل میڈیا پر دھوم مچائی بلکہ ملک کے اعلیٰ ترین حکام کو بھی ان کا گرویدہ بنا دیا۔ کانگو کے صدر نے ان کی اس قربانی اور جذبے کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں کئی بڑے قومی اعزازات سے نوازا اور حکومت نے باقاعدہ طور پر انہیں کانگو کی ثقافت اور امن کا "سرکاری سفیر” نامزد کر دیا۔ آج مائیکل کی عالمی پذیرائی کا معیار یہ ہے کہ کانگو فٹ بال فیڈریشن نے انہیں اپنی آفیشل ورلڈ کپ الیون اور سرکاری وفد کا حصہ بنا لیا ہے، جس کے تحت وہ ٹیم کے ساتھ ہر جگہ سفر کرتے ہیں۔ اسٹیڈیم میں اب صورتحال یہ ہوتی ہے کہ نہ صرف کانگو بلکہ حریف ٹیموں کے فینز اور عام تماشائی بھی میچ دیکھنے کے بجائے مائیکل کے ساتھ سیلفیاں لینے اور ان کا ضبط دیکھنے کے لیے لمبی لائنیں لگاتے ہیں۔ گذشتہ افریقہ کپ کے ایک انتہائی سنسنی خیز میچ میں جب کانگو کو ہار کا سامنا کرنا پڑا، تو مسلسل ساکت کھڑے مائیکل کے چہرے پر کوئی حرکت تو نہ ہوئی، مگر ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس ایک منظر نے دنیا بھر کے فٹ بال فینز کو شدید جذباتی کر دیا اور بین الاقوامی میڈیا نے انہیں "پورے ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا ہیرو” قرار دیا۔

ناقابلِ یقین جسمانی صلاحیت اور کھلاڑیوں کا ردِعمل

طبی ماہرین اور سائنسدانوں کے لیے یہ بات کسی معجزے سے کم نہیں کہ کوئی انسان نوے منٹ تک بغیر ہلے جلے کیسے کھڑا رہ سکتا ہے۔ اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ نوے منٹ تک اس کٹھن پوزیشن میں ساکت رہنے کے لیے مائیکل میچ شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے خاص قسم کی ذہنی یکسوئی اور سخت جسمانی مشقیں کرتے ہیں، جس کی بدولت ان کا جسم عارضی طور پر سن (Numb) ہو جاتا ہے اور وہ درد یا تھکن محسوس نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا پر اس وقت دنیا بھر میں انہیں "دی ہیومن مونیومنٹ” (The Human Monument) یعنی ‘زندہ مجسمہ’ کا نام دیا جا چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میدان میں جب کانگو کے کھلاڑی تھکن سے چور ہونے لگتے ہیں، تو وہ اسٹینڈز میں موجود مائیکل کے اس فولادی عزم کو دیکھ کر دوبارہ نئی توانائی سے بھر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حریف ٹیموں کے نامور کھلاڑی بھی میچ ختم ہونے کے بعد پچ چھوڑنے سے پہلے مائیکل کے پاس جا کر انہیں سلیوٹ کرنا اور داد دینا نہیں بھولتے۔


سچی بات یہ ہے کہ کھیل سے محبت، حب الوطنی اور جنون کی ایسی بے لوث دیوانگی دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، جہاں ایک فین اپنی ٹیم کی محبت، جیت اور حوصلے کے لیے خود ایک جیتا جاگتا مجسمہ بن جاتا ہے!!!

Read Previous

ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پا گیا، وزیراعظم پاکستان نے دستخط کردیے

Read Next

گلگت بلتستان کی ترقی میں ترکیہ کا کردار مزید فعال؛ ٹکا اور جی بی حکومت کے درمیان اہم مشاورت

Leave a Reply