Turkiya-Logo-top

ایران امریکہ کے درمیان مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مفاہمتی معاہدے سے متعلق 14 نکاتی مسودے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، تاہم اس مسودے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی تہران یا واشنگٹن نے باضابطہ طور پر اس کے مندرجات کی توثیق کی ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے سے وابستہ مہر نیوز کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ مسودے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی، ایران کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری کے احترام کی امریکی یقین دہانی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ 30 روز کے اندر ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایران کے اطراف سے اپنی افواج ہٹانے اور آبنائے ہرمز کو ایرانی انتظامات کے تحت دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہوگا۔

مہر نیوز کے مطابق 60 روزہ مذاکراتی عمل کے دوران ایران کے منجمد 24 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کیے جائیں گے، جبکہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی ان میں سے 12 ارب ڈالر ایران کو فراہم کر دیے جائیں گے۔

مجوزہ مسودے کے تحت مستقبل کے مذاکرات صرف افزودہ یورینیم، یورینیم کی افزودگی، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کی اقتصادی تعمیر نو تک محدود ہوں گے، جبکہ ایران کے میزائل پروگرام اور اتحادی مسلح گروہوں کی حمایت کو مذاکراتی ایجنڈے سے باہر رکھا جائے گا۔

اقتصادی شعبے میں ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور متعلقہ برآمدات پر عائد پابندیوں کی معطلی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایران کو حاصل ہونے والی آمدنی تک مکمل رسائی حاصل ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کی تعمیر نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے پیش کریں گے۔

اس فریم ورک کے تحت دونوں ممالک 60 روزہ مذاکرات کریں گے، جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام، امریکی بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے متعلق پابندیوں کے حوالے سے حتمی معاہدے تک پہنچنا ہوگا۔

تاہم مہر نیوز کی جانب سے شائع کردہ یہ تفصیلات تاحال غیر مصدقہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل ان میں تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔

Read Previous

بھارتی فضائیہ کا ایک اور AN-32 طیارہ گر کر تباہ، 5 اہلکار ہلاک

Read Next

امن کی راہ پر ترکیہ کی کوششیں، امریکا نے ترکیہ کے مؤقف کی حمایت کر دی

Leave a Reply