پاکستان کی وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان کے دفاعی بجٹ میں تقریباً 17.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، لیکن ڈالر مالیت میں یہ اضافہ تقریباً 1.3 سے 1.5 ارب امریکی ڈالر کے درمیان بنتا ہے۔ دوسری جانب بھارت کا مجموعی دفاعی بجٹ 80 ارب ڈالر سے زائد ہے، جو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے تقریباً نو گنا زیادہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت صرف عسکری جدیدکاری اور نئے دفاعی سازوسامان کی خریداری پر اتنی رقم خرچ کر رہا ہے جو پاکستان کے پورے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے۔
پاکستان کو مشرقی سرحد پر بھارت جیسے روایتی حریف کا سامنا ہے، جبکہ مغربی سرحد پر دہشت گردی اور سرحدی سلامتی کے مسائل بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اندرونی سلامتی، انسداد دہشت گردی آپریشنز اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے بھی مسلسل وسائل درکار ہوتے ہیں
دفاعی بجٹ میں اضافے کا مطلب یہ نہیں کہ فوجی صلاحیت میں بھی اتنا ہی اضافہ ہو گیا ہے۔ ایندھن، تنخواہیں، اسپیئر پارٹس، لاجسٹکس، گولہ بارود اور دیگر درآمدی اخراجات ڈالر کی قدر سے متاثر ہوتے ہیں۔؟
حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد پاکستان کے لیے فضائی دفاع، نگرانی کے نظام، سائبر سیکیورٹی، سرحدی تحفظ اور انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے نئے عسکری سازوسامان اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے تقریباً 21 ارب ڈالر مختص کیے ہیں، جبکہ پاکستان نے اس مقصد کے لیے تقریباً 2.34 ارب ڈالر رکھے ہیں۔
یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جدید دفاعی ہارڈویئر اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کا حجم اب بھی بہت مختلف ہے۔
قومی سلامتی صرف سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کا براہِ راست تعلق معاشی استحکام سے بھی ہوتا ہے۔ سی پیک منصوبوں، بندرگاہوں، توانائی راہداریوں، صنعتی زونز اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے مؤثر سیکیورٹی ناگزیر سمجھی جاتی ہے
پاکستان کا دفاعی بجٹ اب بھی خطے کے کئی بڑے ممالک کے مقابلے میں محدود ہے اور اس کا بنیادی مقصد سرحدی تحفظ، انسداد دہشت گردی، داخلی سلامتی اور دفاعی بازدار قوت کو برقرار رکھنا ہے۔
