اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر پاکستان نے تفصیلی اور سخت مؤقف پیش کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، سیکیورٹی چیلنجز اور طالبان حکومت کی کارکردگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستانی نمائندے نے اجلاس میں کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے افغان بھائیوں کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں امدادی سرگرمیاں، سیاسی روابط، دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے مراعات اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔
پاکستان نے کہا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ طالبان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ایک ذمہ دار حکومتی نظام کی طرف مثبت پیش رفت کریں گے، تاہم یہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی طویل عرصے سے ایک بڑا مسئلہ رہی ہے جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ اس کے پڑوسی ممالک اور پورے خطے تک پہنچ رہے ہیں۔
پاکستان نے خاص طور پر ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ای ٹی آئی ایم جیسے گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ توقع تھی کہ طالبان ان کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں گے، لیکن افسوسناک طور پر ایسا نہیں ہوا۔
پاکستان نے کہا کہ ان دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں آزادی سے سرگرم ہونے کی اجازت دینا خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے اور پاکستان ان حملوں کا سب سے بڑا نشانہ بنا ہے۔
اقوام متحدہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ صرف 2025 میں پاکستان کو 5,300 سے زائد دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 1,200 سے زائد پاکستانی شہری ان حملوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
مزید کہا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران اب تک 290 سے زائد مرتبہ ایسے جدید ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں جو افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے اسلحے اور گولہ بارود سے منسلک ہیں۔ ان ہتھیاروں میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈرونز بھی شامل ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔
پاکستان نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے اور پاکستان اور دیگر ممالک کے جائز سیکیورٹی خدشات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا کہ بعض عناصر کے تعاون سے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ جیسے حالات پیدا ہو رہے ہیں، جو خطے میں عدم استحکام کا باعث ہیں۔
پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور دفاع کرے گا، اور جب اور جہاں ضرورت ہوگی، اپنے دفاع میں جواب دے گا، جو مکمل طور پر بین الاقوامی قانون اور انسانی قانون کے مطابق ہوگا۔
پاکستان نے کہا کہ وہ ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے اور طالبان کو قائل کرنے کے لیے متعدد سفارتی کوششیں کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین کی مخلصانہ ثالثی کوششوں کو بھی سراہا گیا۔
پاکستان نے طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کی کھلی مذمت سے انکار کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا اور اسے ان گروہوں کے ساتھ مبینہ تعلقات اور حمایت کا ثبوت قرار دیا۔
پاکستان نے کہا کہ دہشت گردی کا شکار ہو کر وہ خاموش نہیں بیٹھے گا اور اپنے دفاع میں ہر ممکن اقدام کرے گا۔
اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ سیکریٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ افغانستان کے مسائل کی بڑی حد تک ذمہ داری بیرونی عوامل پر ڈالتی ہے۔
پاکستان نے یوناما کی رپورٹنگ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں کو “شہری ہلاکتوں” میں شامل کر دیا جاتا ہے، جس سے رپورٹنگ کی ساکھ پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق یوناما سرحد پار دہشت گردی کے وسیع تناظر کو نظر انداز کرتا ہے اور اس بات کو مکمل طور پر نہیں دیکھتا کہ افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی پاکستان کو کس قدر متاثر کر رہی ہے۔
پاکستان نے کہا کہ افغانستان آج جن مشکلات کا شکار ہے، ان کی بنیادی وجہ طالبان کا غیر ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی اور انتہا پسندی پر مبنی نظریات ہیں۔
سرحد کی بندش کے حوالے سے پاکستان نے واضح کیا کہ یہ اقدام انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ نہیں ہے اور امدادی سامان کی ترسیل مسلسل جاری ہے۔
پاکستان نے مزید کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے، تاہم یہ قیام غیر معینہ مدت کے لیے نہیں تھا اور غیر دستاویزی افراد کا بوجھ بھی ملک کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج رہا ہے۔
پاکستان نے طالبان سے واضح مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابل تصدیق، مستقل اور ناقابل واپسی کارروائی کریں بصورت دیگر خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
