آئی ایم ایف کی تازہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق مسلم دنیا کی معاشی درجہ بندی میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے، جس کے تحت ترکیہ نے پہلی بار مسلم ممالک میں سب سے بڑی معیشت کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ ترکیہ کی مجموعی جی ڈی پی 1 کھرب 64 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
طویل عرصے سے سرفہرست رہنے والا انڈونیشیا اب دوسرے نمبر پر آ گیا ہے، جس کی معیشت 1 کھرب 54 ارب ڈالر کے قریب بتائی گئی ہے۔ سعودی عرب، جو تیل پر مبنی مضبوط معیشت کے باعث ہمیشہ نمایاں رہا ہے، اب تیسرے نمبر پر چلا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلم دنیا کی معاشی درجہ بندی کچھ یوں ہے:
1۔ 🇹🇷 ترکیہ — 1 کھرب 64 ارب ڈالر
2۔ 🇮🇩 انڈونیشیا — 1 کھرب 54 ارب ڈالر
3۔ 🇸🇦 سعودی عرب — 1 کھرب 39 ارب ڈالر
4۔ 🇦🇪 متحدہ عرب امارات — 622 ارب ڈالر
5۔ 🇲🇾 ملائیشیا — 516 ارب ڈالر
6۔ 🇧🇩 بنگلہ دیش — 511 ارب ڈالر
7۔ 🇪🇬 مصر — 430 ارب ڈالر
8۔ 🇵🇰 پاکستان — 408 ارب ڈالر
9۔ 🇩🇿 الجزائر — 317 ارب ڈالر
10۔ 🇮🇷 ایران — 300 ارب ڈالر
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ترکیہ کی متنوع اور مضبوط معاشی ساخت ہے جس میں صنعت، خدمات، برآمدات، سیاحت، تعمیرات اور دفاعی پیداوار نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں اپنی برآمدی منڈیوں کو بھی وسیع کیا ہے، جس سے اس کی مجموعی آمدنی میں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب کئی بڑے تیل پر انحصار کرنے والے ممالک عالمی منڈی میں تیل و گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث دباؤ کا شکار رہے، جس کے اثرات ان کی مجموعی جی ڈی پی پر بھی پڑے۔
انڈونیشیا اگرچہ اب دوسرے نمبر پر ہے لیکن آبادی اور مارکیٹ کے لحاظ سے اب بھی ایک بڑی معیشت ہے، تاہم کچھ شعبوں میں سست روی نے اس کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے مالیاتی، سیاحتی اور کاروباری مرکز کے طور پر اپنی معیشت کو مضبوط کیا ہے، لیکن مجموعی حجم میں وہ ترکیہ اور انڈونیشیا سے پیچھے ہے۔
بنگلہ دیش نے برآمدی شعبے خصوصاً گارمنٹس انڈسٹری میں مسلسل ترقی دکھائی ہے، جبکہ پاکستان اس وقت مالیاتی دباؤ اور معاشی اصلاحات جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق یہ تمام اعداد و شمار نامیاتی جی ڈی پی اور معاشی پیش گوئیوں پر مبنی ہیں، جو عالمی کرنسی کی شرح تبادلہ، تیل کی قیمتوں، سیاسی استحکام اور تجارتی حالات کے بدلنے سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ مسلم دنیا کا معاشی مرکز آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہا ہے، جہاں ترکیہ ایک مضبوط صنعتی اور متنوع معیشت کے طور پر ابھر رہا ہے جبکہ روایتی طور پر توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک نسبتاً پیچھے جا رہے ہیں۔
