Turkiya-Logo-top

چین میں پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز کی کمیشننگ: صدرِ مملکت آصف علی زرداری مہمانِ خصوصی

سانیا (چین) / اسلام آباد: پاک بحریہ کی جدید ترین دفاعی صلاحیتوں اور سمندری طاقت میں ایک تاریخی اضافے کے طور پر، چین کے شہر ‘سانیا’ میں پہلی ہنگور کلاس اٹیک آبدوز “پی این ایس ہنگور” (PNS Hangor) کی باقاعدہ کمیشننگ کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔

اس تاریخی تقریب میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ان کے ہمراہ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف سمیت پاکستان اور چین کی بحری افواج کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

دفاعی صلاحیتوں میں ایک عظیم سنگِ میل

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہنگور کلاس آبدوز کی پاک بحریہ کے فلیٹ میں شمولیت کو ایک شاندار دفاعی سنگِ میل قرار دیا۔

  • انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی بحری سرحدوں، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر چوکنا اور تیار ہے۔
  • ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق، اس جدید آبدوز کی شمولیت سے پاکستان کے بحری دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں بھرپور مدد ملے گی۔

پی این ایس ہنگور (PNS Hangor) کی جدید ترین خصوصیات

پاک بحریہ کے مطابق، ہنگور کلاس آبدوزیں دورِ حاضر کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا شاہکار ہیں۔ ان کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • اے آئی پی ٹیکنالوجی (AIP): یہ آبدوزیں ‘ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن’ سسٹم اور جدید ڈیزل الیکٹرک ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جس کی بدولت یہ دشمن کی نظروں میں آئے بغیر طویل عرصے تک زیرِ آب رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
  • اسٹیٹ آف دی آرٹ ویپنز: ان میں دشمن کو نشانہ بنانے والے جدید ترین ہتھیار نصب ہیں۔
  • ہائی ٹیک سینسرز: یہ اعلیٰ درجے کے سینسرز اور نگرانی کے جدید نظام سے لیس ہیں، جو انہیں سمندری دفاع اور آپریشنل مشنز میں انتہائی مہلک اور مؤثر بناتے ہیں۔

SLOCs کا تحفظ اور ‘ہنگور’ کی تاریخی اہمیت

چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات اور اہم بحری گزرگاہوں پر بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر جدید بحری طاقت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

  • تجارتی راستوں کا تحفظ: یہ آبدوزیں بحرِ عرب اور بحرِ ہند میں پاکستان کی ‘سی لائنز آف کمیونیکیشن’ (SLOCs) کے تحفظ اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
  • تاریخی پسِ منظر: نیول چیف نے ‘ہنگور’ نام کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ 1971 کی جنگ میں پاک بحریہ کی ہنگور آبدوز نے دشمن کے جنگی جہاز کو غرق کر کے تاریخ کا ایک سنہری باب رقم کیا تھا۔ آج نئی ہنگور کلاس اسی شاندار روایت کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔

پاک چین لازوال دوستی کا ایک اور ثبوت

پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق، پی این ایس ہنگور کی کمیشننگ پاکستان اور چین کے درمیان گہرے دفاعی تعلقات، باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون کا ایک اور مضبوط ثبوت ہے۔

اس شاندار اور تاریخی پیش رفت پر وزیرِ اعظم پاکستان اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانب سے بھی پاک بحریہ کو خصوصی مبارکباد پیش کی گئی ہے اور اسے قومی دفاعی صلاحیتوں میں ایک قابلِ فخر کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

Read Previous

ٹرمپ–پیوٹن طویل ٹیلیفونک رابطہ: یوکرین جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام پر اہم گفتگو

Read Next

حج 2026: سعودی وزارتِ صحت کی عازمین کے لیے اہم ہدایات، ویکسینیشن اور طبی شرائط سخت

Leave a Reply