Turkiya-Logo-top

تائیوان میں بھارتی ورکرز کی مخالفت میں شدت: عوام ‘نو انڈین ورکرز’ مہم کیوں چلا رہے ہیں؟

تائیوان کی حکومت کی جانب سے ملک میں لیبر کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھارت سے مزدور منگوانے کے منصوبے نے ایک نئی اور گرما گرم بحث کو جنم دے دیا ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہے، جس نے اس معاملے کو ایک حساس سماجی اور سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے۔

لیبر بحران اور غیر ملکی افرادی قوت کی ضرورت

عالمی خبر رساں ادارے ‘ڈی ڈبلیو’ کی رپورٹ کے مطابق، تائیوان اس وقت شدید لیبر بحران کا شکار ہے۔ ملک کی معیشت اور صنعتوں کو سہارا دینے کے لیے غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت کی جانب سے بھارت سے ورکرز لانے کی تجویز سامنے آئی تھی، تاہم اس اعلان کے بعد غیر معمولی عوامی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

‘نو انڈین ورکرز’ مہم اور عوامی پٹیشن

بھارتی ورکرز کی متوقع آمد کے خلاف تائیوانی شہری سڑکوں اور سوشل میڈیا پر متحرک ہو گئے ہیں:

  • آن لائن پٹیشن: رپورٹ کے مطابق، اب تک 40 ہزار سے زائد تائیوانی شہریوں نے ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے ہیں، جس میں حکومت سے بھارتی مزدوروں کی تائیوان آمد کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
  • سوشل میڈیا ٹرینڈ: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر “نو انڈین ورکرز ان تائیوان” کے نام سے مہم تیزی سے پھیل رہی ہے، جہاں شہری اپنے شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

تائیوانی شہریوں کے خدشات کیا ہیں؟

تائیوانی شہریوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے یہ تحفظات محض افواہوں یا تعصب پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ اس کا تعلق براہِ راست بھارت کے کرائم ڈیٹا سے ہے۔ عوام کی جانب سے درج ذیل سنگین خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے:

  • خواتین کا تحفظ: شہریوں کو خدشہ ہے کہ بھارتی ورکرز کی بڑی تعداد میں آمد سے ملک میں خواتین کا تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
  • جرائم کی شرح: عوامی بحث میں بھارت میں ہونے والے مختلف جرائم، گھریلو تشدد، ریپ کیسز اور سائبر فراڈ کے واقعات کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ یہی اعداد و شمار عوامی خدشات اور غصے میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال اور حکومتی مؤقف

اگرچہ تائیوان میں پہلے سے ہی ہزاروں کی تعداد میں بھارتی شہری مختلف شعبوں (خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر) میں کامیابی سے کام کر رہے ہیں اور مزید ورکرز کی آمد بھی متوقع ہے، لیکن موجودہ حکومتی منصوبے نے عوامی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق، صنعتوں کو فعال رکھنے، پیداوار بڑھانے اور گرتی ہوئی شرحِ پیدائش کے باعث پیدا ہونے والے معاشی خلا کو پُر کرنے کے لیے غیر ملکی ورکرز ناگزیر ہیں۔ تاہم، عوام کے شدید اور منظم خدشات نے اس معاملے کو حکومت کے لیے انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔

Read Previous

وزیراعظم پاکستان سے یورپی یونین کے وفد کی ملاقات: ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اہم اتفاق

Read Next

پاکستان کا “فتح-دوم” میزائل کا کامیاب تجربہ

Leave a Reply