راولپنڈی / اسلام آباد: خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی ہنرمندی (Skill Development) کے فروغ کے لیے ترک تعاون و رابطہ ایجنسی ‘ٹکا’ (TIKA) اسلام آباد کی سربراہ محترمہ صالحہ تونا نے فاطمہ جناح ویمنز یونیورسٹی (FJWU) کا ایک اہم اور تعمیری دورہ کیا۔
اس دورے کے دوران ان کی ملاقات جامعہ کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ مرزا سے ہوئی، جس میں طالبات کے روشن مستقبل اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔
طالبات کی معاشی خودمختاری کے لیے عملی اقدامات پر زور
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی ماحول کی فراہمی آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس موقع پر درج ذیل اہم نکات پر زور دیا گیا:

- عملی مہارتوں کی تربیت: طالبات کو صرف نصابی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی (Practical) مہارتیں سکھائی جائیں۔
- معاشی خودمختاری: ہنرمندی اور صلاحیتوں میں اضافہ ہی وہ بنیادی عوامل ہیں جو خواتین کو معاشرے میں بااختیار اور معاشی طور پر خودمختار بنا سکتے ہیں۔
- مشترکہ منصوبہ جات: مستقبل قریب میں طالبات کے لیے مختلف شعبوں میں مشترکہ تربیتی پروگرامز (Training Programs) اور ورکشاپس شروع کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
"خواتین کی ترقی کے لیے ٹکا اپنا تعاون جاری رکھے گی” — صالحہ تونا
ٹکا کی سربراہ محترمہ صالحہ تونا نے پاکستان میں خواتین کی تعلیم اور ترقی کے لیے ادارہ جاتی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
"ہمیں فخر ہے کہ پاکستان میں خواتین کی ترقی کے لیے شاندار کام ہو رہا ہے۔ ٹکا نوجوان خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنے ترقیاتی منصوبوں اور تربیتی پروگرامز کا دائرہ مزید وسیع کرے گی اور ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔”
وائس چانسلر ڈاکٹر بشریٰ مرزا کا اظہارِ تشکر
فاطمہ جناح ویمنز یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ مرزا نے ترک ایجنسی ‘ٹکا’ کے تعاون اور دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی بین الاقوامی شراکت داریاں تعلیمی اداروں کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہوتی ہیں۔

- انہوں نے کہا کہ ایسے عملی پروگرامز نہ صرف طالبات کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں بلکہ انہیں عملی زندگی کے سخت چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار کرتے ہیں۔
مستقبل کی جانب ایک مثبت قدم
اس اہم ملاقات کو خواتین کی تعلیم، ہنرمندی اور خودمختاری کے فروغ کی جانب ایک انتہائی مثبت اور مؤثر پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کے مطابق، ان مشترکہ کاوشوں سے نہ صرف تعلیمی شعبہ مستفید ہوگا، بلکہ ملک کی سماجی و معاشی ترقی میں خواتین کے کردار کو مزید مضبوط اور فعال بنانے میں بھی بے پناہ مدد ملے گی۔
