اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لانے لگیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنی ایک مختصر ٹیم کے ہمراہ آج رات اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے اہم سفارتی ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ شروع ہوگا۔
امریکا ایران امن مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ اور امریکی ٹیم کی موجودگی
حکومتی ذرائع کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ کا یہ اہم دورہ پاکستانی مصالحتی ٹیم کی حالیہ اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔

- مذاکرات کا امکان: اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ (Second Round) کے انعقاد پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
- امریکی ٹیم کی آمد: اس ممکنہ اور انتہائی حساس مذاکراتی عمل کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکا کی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔
دورے سے قبل اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے رابطے
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اسلام آباد آمد سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تسلسل کا ایک اہم حصہ ہیں:
- نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے گفتگو: عباس عراقچی نے سینیٹر اسحاق ڈار سے رابطہ کیا جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، ممکنہ جنگ بندی اور امریکا ایران رابطوں کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے فوری اور مؤثر پیش رفت ناگزیر ہے۔
- آرمی چیف سے رابطہ: ایرانی وزیر خارجہ نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق دفاعی امور پر بات چیت کی گئی۔
پسِ منظر
یاد رہے کہ یہ اہم سفارتی ملاقاتیں اور پیش رفت دو ہفتوں کے طویل تعطل کے بعد سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طرف جہاں امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر سخت بیانات اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے، وہیں دوسری جانب پاکستان کی ثالثی میں بڑی جنگ کو ٹالنے اور مذاکرات کے لیے پسِ پردہ راہ ہموار کرنے کی کوششیں بھی تیزی سے جاری ہیں۔
