Turkiya-Logo-top

یورپ میں اسلامی علوم کا نیا سنگِ میل: جرمنی میں پہلی "فیکلٹی آف اسلامک تھیالوجی” کا قیام


میونسٹر، جرمنی: جرمنی کی ممتاز اور مشہورِ زمانہ تعلیمی درسگاہ ‘یونیورسٹی آف میونسٹر’ نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے یکم جولائی 2026 سے ملک کی پہلی باقاعدہ “فیکلٹی آف اسلامک تھیالوجی” (Faculty of Islamic Theology) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ عظیم اقدام نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ میں اسلامی علوم کی تدریس، تحقیق اور بین المذاہب ہم آہنگی کے ایک نئے دور کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔

"یہ محض تعلیم نہیں، رواداری کی دعوت ہے”

یونیورسٹی آف میونسٹر کے ریکٹر یوہانس ویسلز (Johannes Wessels) نے اس فیصلے کو ادارے کے لیے باعثِ فخر قرار دیا ہے۔

"یہ قدم ایک ایسا ‘سنگِ میل’ ہے جس پر ہمارا ادارہ فخر کرتا ہے۔ یہ اقدام صرف تعلیمی ترقی نہیں بلکہ معاشرے اور سیاست میں زیادہ رواداری (Tolerance) کی طرف ایک واضح اور کھلی دعوت بھی ہے، جس کے اثرات میونسٹر سے کہیں آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔”

مرکز سے ایک مکمل اور آزاد فیکلٹی تک کا سفر

یہ نئی فیکلٹی راتوں رات وجود میں نہیں آئی، بلکہ یہ ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

  • ابتدائی قیام: 2012 میں یہاں “سنٹر فار اسلامک تھیالوجی” (CIT) قائم کیا گیا تھا۔
  • تنظیمِ نو: 2015 میں ایک خصوصی ‘تھیالوجیز ٹاسک فورس’ بنائی گئی اور 2019 میں CIT کو باقاعدہ فیکلٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
  • اب یہ مرکز ایک مکمل اور آزاد فیکلٹی میں تبدیل ہو جائے گا، جس میں تمام تعلیمی سرگرمیاں ضم کر دی جائیں گی۔ واضح رہے کہ میونسٹر یونیورسٹی میں 22 سال بعد (2004 کے بعد) کسی نئی فیکلٹی کا اضافہ ہو رہا ہے۔

اس فیکلٹی کے بانی ڈین مُحَنّد خورشید (Mouhanad Khorchide) ہیں، جو 2010 سے اسلامی دینی تعلیم کی کرسی پر فائز ہیں۔ ان کے مطابق:

"یہ فیکلٹی نہ صرف علمی ڈھانچے کو مضبوط کرے گی بلکہ جرمنی میں موجود لاکھوں مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی اہم علامتی اور فکری پیغام بھی ہے۔ یہ اقدام یونیورسٹی کے ‘مذہبی تنوع’ کے کردار کو مزید مستحکم کرے گا۔”

نصاب، طلبہ اور تعلیمی خودمختاری

نئی فیکلٹی میں تدریسی عمل کا باقاعدہ آغاز 2026/27 کے سرمائی سمسٹر سے ہوگا۔

  • اساتذہ اور طلبہ: ابتدائی طور پر 8 پروفیسرز (چار مرد اور چار خواتین) تدریسی فرائض انجام دیں گے۔ اس وقت تقریباً 450 طلبہ مختلف پروگراموں (بیچلرز، ماسٹرز اور اسکول ٹیچنگ) میں زیرِ تعلیم ہیں۔
  • جدید نصاب: نصاب میں کلاسیکی علوم کے ساتھ ساتھ اسلامی فلسفہ، اسلامی معاشرتی علوم، مذہب اور سماجی خدمت جیسے جدید موضوعات شامل ہوں گے۔
  • مکمل خودمختاری: اس تبدیلی کے بعد فیکلٹی کو مکمل علمی خودمختاری حاصل ہوگی۔ اب یہ شعبہ خود اپنے تحقیقی خطوط، نصاب، امتحانی نظام، پروفیسروں کی تقرری اور ڈاکٹریٹ (PhD) و پوسٹ ڈاکٹریٹ پروگرام ترتیب دے سکے گا۔

بین المذاہب مکالمے کا نیا مرکز

یہ فیکلٹی جلد ہی یونیورسٹی کے “کیپس آف تھیالوجی اینڈ ریلیجس اسٹڈیز” کا حصہ بن جائے گی۔ اس کیمپس کی خاص بات یہ ہوگی کہ یہاں ‘پروٹسٹنٹ’ اور ‘کیتھولک’ تھیالوجی کے ساتھ ‘اسلامی علوم’ بھی ایک ہی علمی پلیٹ فارم پر موجود ہوں گے۔

یہ نیا کیمپس علم، مذہب، سیاست، میڈیا اور ثقافت کے درمیان بین المذاہب مکالمے کا ایک شاندار عالمی مرکز بننے جا رہا ہے، جہاں دنیا کی ایک بہت بڑی مذہبی ریسرچ لائبریری بھی قائم کی جائے گی۔

Read Previous

غزہ میں سلطان عبدالحمید ثانی کے پوتوں کی جانب سے "حمیدیہ اسکول” کا قیام؛ کلاس رومز میں صدر ایردوان کی تصاویر آویزاں

Read Next

پی ایس ڈی ایف اور ترک ایجنسی ٹکا کی اہم ملاقات: خواتین اور معذور افراد کی معاشی خودمختاری پر اتفاق

Leave a Reply