Turkiya-Logo-top

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر: جنگوں سے سفارتکاری تک، عالمی امن کا حوالہ کیسے بنے؟

دنیا کے نقشے پر کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب بندوق کی گونج صرف جنگ کا اعلان نہیں ہوتی، بلکہ ایک نئے عالمی نظام کی دستک ہوتی ہے۔ دورِ حاضر میں جنگیں اب صرف میدانوں تک محدود نہیں رہیں؛ یہ سفارتی میزوں، انٹیلیجنس نیٹ ورکس اور پیچیدہ عالمی حکمتِ عملیوں کا روپ دھار چکی ہیں۔

جنوبی ایشیا کے اسی نازک اور الجھے ہوئے سیاسی و عسکری منظرنامے میں پاکستان نے اپنی بقا اور غلبے کی ایک نئی داستان رقم کی ہے، جس کا مرکزی کردار ملک کا طاقتور ترین عسکری چہرہ، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ہیں۔

پہلگام کشیدگی اور ‘آپریشن بنیانِ مرصوص’

22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے بعد پاک-بھارت کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئی تھی۔ سرحدی تناؤ، میزائل سرگرمیاں اور ڈرون کارروائیاں خطے کو جنگ کے دہانے پر لے آئی تھیں۔

یہ وہ کڑا وقت تھا جب پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی ایک مربوط انداز میں سامنے آئی اور "آپریشن بنیانِ مرصوص” کا آغاز کیا گیا۔ اس آپریشن کے نمایاں پہلو درج ذیل تھے:

  • منظم دفاعی ردعمل: عسکری طاقت کا بھرپور مظاہرہ جس نے ریاستی عزم کو ثابت کیا۔
  • پسِ پردہ سفارتکاری: تصادم کے عروج پر بھی غیر علانیہ مذاکرات اور خاموش رابطوں کے ذریعے ایک بڑی جنگ کو ٹالا گیا۔

فیلڈ مارشل کا تاریخی اعزاز

پہلگام بحران کو جس مہارت اور تحمل سے سنبھالا گیا، اس نے پاکستان کی عسکری قیادت کو عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا۔ فیصلوں کا دائرہ صرف جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ ریاستی حکمتِ عملی اور خطے کے توازن تک پھیل گیا۔ اسی تسلسل میں عسکری قیادت کو ‘فیلڈ مارشل’ کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا—جو ایک غیر معمولی عسکری کامیابی، ریاستی اعتماد اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ کردار کی علامت ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان بطور ‘کنیکٹر اسٹیٹ’

ایک سال بعد جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے جنگی صورتحال اختیار کی، تو دنیا بھر کی نظریں طاقتوں کی صف بندی پر جم گئیں۔ اس انتہائی نازک موڑ پر پاکستان ایک منفرد سفارتی پوزیشن میں سامنے آیا:

  • امریکہ کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک روابط۔
  • ایران کے ساتھ تاریخی اور جغرافیائی تعلقات۔
  • خلیجی ممالک کے ساتھ گہری دفاعی اور معاشی شراکت داری۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی مشترکہ سفارتی کوششوں سے اسلام آباد ایک ایسے مرکز (Connector State) کے طور پر ابھرا جہاں متحارب طاقتوں کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ اس سفارتی کھیل نے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

افغان محاذ اور مستقل چیلنجز

اسی دوران، افغانستان کا محاذ بھی پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کا ایک اہم حصہ رہا۔ سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے اور شدت پسندی کے خدشات سے نمٹنے کے لیے مربوط کارروائیاں کی گئیں، جس کا بنیادی مقصد خطے کو مکمل عدم استحکام کی طرف جانے سے روکنا تھا۔

مستقبل کا وژن: جنگ اور امن کا توازن

ان تمام پیچیدہ حالات کے درمیان پاکستان کی ریاستی حکمتِ عملی ایک بڑے اسٹریٹجک وژن کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عسکری طاقت محض جنگ کے لیے نہیں، بلکہ سفارتکاری کے ایک مؤثر آلے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

تاریخ ہمیشہ انہیں یاد رکھتی ہے جو حالات کے دھارے میں بہنے کے بجائے ان کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا دورِ قیادت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر استحکام، حکمت اور توازن کا یہ سفر اسی طرح جاری رہا، تو پاکستان صرف خطے کا نہیں بلکہ عالمی سفارتکاری کا ایک اہم ترین ستون بن کر ابھرے گا۔

Read Previous

پاکستانی نوجوان کا شاندار کارنامہ: صالح آصف کی اسٹارٹ اپ ‘کرسر’ کا اسپیس ایکس کے ساتھ 60 ارب ڈالر کا معاہدہ

Read Next

پاکستان کا ماسٹر اسٹروک: افغانستان کو بائی پاس کر کے وسطی ایشیا کے لیے نیا تجارتی روٹ فعال

Leave a Reply