انطالیہ — ترکیہ کے شہر انطالیہ میں عالمی ماحولیاتی رہنماؤں، اعلیٰ حکام اور سابق اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی نمائندوں کا اہم مشاورتی اجلاس اختتام پذیر ہو گیا، جس میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے آئندہ پانچ سالہ عالمی لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس کی میزبانی زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن نے کی، جہاں شرکاء نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے صفر فضلہ (Zero Waste) اور سرکلر اکانومی کے اصولوں کو عالمی ماحولیاتی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنانے پر زور دیا۔
اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کے صدر سامیڈ آغیرباش نے کہا کہ زیرو ویسٹ منصوبہ 2017 میں شروع ہونے کے بعد ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اب اسے بین الاقوامی سطح پر مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترکیہ میں اقوامِ متحدہ کے مختلف دفاتر کو ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے تحت باقاعدگی سے اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ اقدامات پر مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال 5 سے 7 جون کے دوران استنبول میں زیرو ویسٹ فورم منعقد کیا جائے گا، جس میں 150 سے زائد ممالک کی شرکت متوقع ہے۔ ان کے مطابق یہ فورم ماحولیات کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا شہری پلیٹ فارم بننے جا رہا ہے۔
اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انطالیہ کے گورنر حلوصی شاہین نے کہا کہ سیاحت اور زرعی سرگرمیوں کی وجہ سے خطے پر ماحولیاتی دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر پائیدار ترقی کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ماحول محفوظ رکھا جا سکے۔
اس موقع پر سابق وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا کہ دنیا سالانہ دو ارب ٹن سے زائد کچرا پیدا کر رہی ہے جبکہ اربوں افراد اب بھی بنیادی ویسٹ مینجمنٹ سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی سفارت کاری اور عالمی تعاون کے بغیر اس بحران پر قابو پانا ممکن نہیں۔
اجلاس میں نوجوانوں کی شمولیت پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ نوجوان امور کے ماہر عمر طیب ایردوان نے کہا کہ دنیا بھر کے نوجوان ماحولیات کے حوالے سے جدید خیالات پیش کر رہے ہیں، تاہم ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔
پروگرام کے اختتام پر ماحولیاتی رہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا، جس میں موسمیاتی اقدامات کو عملی شکل دینے، شراکت داری بڑھانے اور غیر سرکاری اداروں کی شرکت کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ اعلامیے میں استنبول میں “زیرو ویسٹ ورکنگ گروپ برائے موسمیاتی تبدیلی” کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جس کا مقصد ماحولیاتی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
