Turkiya-Logo-top

بنی آدم کا پیغام پھر زندہ،عظیم شاعر سعدی شیرازی کو دنیا بھر میں خراجِ عقیدت

ایران اور دنیا بھر میں موجود ایرانی سفارت خانوں کی جانب سے آج 21 اپریل کو قومی سعدی ڈے منایا گیا، جس میں تیرہویں صدی کے عظیم فارسی شاعر سعدی شیرازی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

سعدی شیرازی کی پیدائش تقریباً 1210 میں ایران کے تاریخی شہر شیراز میں ہوئی تھی۔ ان کی مشہور تصانیف "بوستان” اور "گلستان” نہ صرف شاعری کا اعلیٰ نمونہ سمجھی جاتی ہیں بلکہ ان میں اخلاقیات، انسانیت اور زندگی کے تجربات کو سادہ مگر گہری حکمت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

تقریبات کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں ایرانی سفارت خانوں نے سعدی شیرازی کی تصاویر، خطاطی کے نمونے اور ان کے اقوال پیش کیے، جن کے ذریعے ان کے امن، محبت اور انسانی ہمدردی کے پیغام کو اجاگر کیا گیا۔ ان تقریبات کا انعقاد ایشیا سے یورپ تک مختلف شہروں میں کیا گیا، جہاں سعدی کے خیالات کو موجودہ عالمی حالات اور تنازعات کے تناظر میں بھی بیان کیا گیا۔

سعدی شیرازی کی سب سے مشہور نظم "بنی آدم” آج بھی دنیا بھر میں انسانی یکجہتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس نظم کا مشہور شعر "بنی آدم اعضائے یک پیکرند” اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں آویزاں قالین پر بھی تحریر ہے، جو عالمی سطح پر انسانوں کے درمیان ہمدردی اور اتحاد کی یاد دہانی کراتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سعدی کا پیغام آج کے دور میں پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے، جب دنیا مختلف تنازعات اور جنگوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے اشعار انسانوں کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر ہمدردی اور بھائی چارہ صرف الفاظ تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی زندگی میں اپنائے جائیں، تو دنیا میں امن اور سکون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

قومی سعدی ڈے نہ صرف ایک ادبی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے بلکہ یہ انسانیت، برداشت اور باہمی احترام کے اصولوں کو یاد کرنے اور اپنانے کی ایک اہم یاد دہانی بھی سمجھا جاتا ہے۔

Read Previous

ترکیہ کا عظیم بحری منصوبہ: TCG Anadolu سے بھی بڑا طیارہ بردار جہاز 2027 میں لانچ کے لیے تیار

Read Next

ترکیہ میں COP31 سے قبل عالمی ماحولیاتی قیادت کا اعلیٰ سطحی اجلاس

Leave a Reply