اسلام آباد: پاکستان خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک بار پھر اہم ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث اس بات پر شدید غیر یقینی صورتحال منڈلا رہی ہے کہ یہ مذاکرات واقعی منعقد ہو پائیں گے یا نہیں۔
خلیج عمان کا واقعہ: مذاکرات کے راستے میں بڑی رکاوٹ
مذاکرات کے اس دوسرے دور پر اس وقت سوالیہ نشان لگ گیا جب گزشتہ ہفتے امریکی بحریہ نے خلیجِ عمان میں کارروائی کرتے ہوئے ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو قبضے میں لے لیا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد اس واقعے کو پہلی بڑی بحری کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ: غیر معمولی اقدامات
پاکستان نے 11 اور 12 اپریل کو پہلے دور کی میزبانی کے بعد اب دوسرے دور کے لیے دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے ہیں:
- ریڈ زون سیل: اہم سرکاری عمارتوں اور ڈپلومیٹک انکلیو پر مشتمل حساس ‘ریڈ زون’ کو عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
- سرینا ہوٹل تک رسائی محدود: وہ ہوٹل (سرینا) جہاں پہلے مذاکرات منعقد ہوئے تھے، اسے بھی عام شہریوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
- ورک فرام ہوم (WFH): ریڈ زون اور ملحقہ علاقوں میں موجود دفاتر اور تعلیمی اداروں کو گھروں سے کام کرنے کی خصوصی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
- پبلک ٹرانسپورٹ بند: شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
ایران کا مؤقف: "امریکی رویہ سازگار نہیں”
دوسری جانب ایران نے ابھی تک مذاکرات میں شرکت کی حتمی تصدیق نہیں کی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
"ابھی تک مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ امریکہ کا حالیہ رویہ سفارتی عمل کے لیے بالکل سازگار نہیں ہے، اور ان اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔”
پاکستان کی اعلیٰ سطحی سفارتی کوششیں
کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کو بچانے کے لیے پاکستان متحرک ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ایک طویل ٹیلیفونک گفتگو کی ہے۔ اس رابطے میں خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا اور پاکستان نے واضح کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا مصالحتی کردار خلوصِ نیت سے جاری رکھے گا۔
