Turkiya-Logo-top

جنگ کی تیاری یا دفاعی حکمتِ عملی؟ ترکیہ کی سیکیورٹی پالیسی نے عالمی تجسس بڑھا دیا

ترکیہ کی نئی دفاعی حکمتِ عملی

بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آنے والی ایک حالیہ اور تفصیلی رپورٹ نے ترکیہ کی دفاعی اور ریاستی پالیسیوں پر عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ترکیہ پچھلے چند برسوں سے اپنے سیکیورٹی، عسکری اور انتظامی ڈھانچے میں اتنی گہری اور وسیع تبدیلیاں کر رہا ہے جسے تجزیہ کار ایک ‘طویل المدتی اسٹریٹجک تیاری’ قرار دے رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کا شکار ہے اور خطے میں طاقت کا توازن مسلسل بدل رہا ہے۔

ترکیہ کی دفاعی تیاریوں کے اہم پہلو

رپورٹ کے مطابق، ترکیہ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی فوجی اور شہری سطح پر متحرک ہونے کی صلاحیت کو ازسرِنو ترتیب دیا ہے۔ اس میں درج ذیل اہم اقدامات شامل ہیں:

  • عسکری قوانین میں تبدیلی: فوجی قوانین کو جدید تقاضوں کے مطابق اپڈیٹ کیا گیا ہے۔
  • جدید ٹیکنالوجی: ڈرون (Drone) اور جدید میزائل ٹیکنالوجی کی تیاری میں تیزی لائی گئی ہے۔
  • لاجسٹک سپورٹ: فوج کے لاجسٹک سپورٹ سسٹم کو مزید وسعت دی گئی ہے تاکہ ہنگامی حالات میں رسد متاثر نہ ہو۔

کیا ہدف اسرائیل ہے؟

اگرچہ رپورٹ میں براہِ راست کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا، لیکن خطے کی مجموعی صورتحال کے پیشِ نظر ماہرین کا ماننا ہے کہ ترکیہ کی اس اسٹریٹجک سوچ میں اسرائیل کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کا عنصر نمایاں ہے۔ خاص طور پر شام اور مشرقی بحیرہ روم کے حساس خطوں میں ترکیہ اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے متحرک ہے۔

"مکمل قومی دفاع” کا نیا اور منفرد تصور

رپورٹ کا سب سے اہم نکتہ ترکیہ کا "مکمل قومی دفاع” (Total National Defense) کا نیا تصور ہے۔ اس ماڈل کے تحت جنگ یا بحران کی صورت میں صرف فوج ہی نہیں بلکہ پوری ریاست متحرک ہوگی:

  • معیشت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور تمام شہری وسائل کو دفاعی نظام کا حصہ بنایا جا سکے گا۔
  • ضرورت پڑنے پر نجی کمپنیوں، صنعتی پیداوار اور شہری افرادی قوت کو بھی ریاستی دفاع کے لیے استعمال میں لایا جا سکے گا۔
  • معاشی سطح پر ہنگامی اخراجات اور ذخیرہ اندوزی کے لیے ایک مربوط فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔

اقتدار کا مرکز: صدارتی نظام

گزشتہ ایک دہائی میں ترکیہ کے ریاستی اور فوجی اداروں میں بڑے پیمانے پر تنظیمِ نو کی گئی ہے۔ متعدد اعلیٰ افسران کی برطرفی کے بعد فیصلہ سازی کے زیادہ تر اختیارات صدارتی سطح پر مرتکز (Centralized) ہو گئے ہیں۔

"اس تبدیلی نے ریاستی مشینری کو تیز رفتار اور مربوط تو بنا دیا ہے، لیکن اختیارات کے اس قدر ارتکاز پر بعض حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔”

علاقائی اثر و رسوخ میں اضافہ

ترکیہ اب صرف اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رہا۔ شام، لیبیا، صومالیہ اور قطر جیسے ممالک میں اس کی فعال عسکری موجودگی نے اسے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا ایک طاقتور اور اہم ترین فریق بنا دیا ہے۔

Read Previous

خلیجِ عمان میں کشیدگی: امریکی بحریہ کا ایرانی کارگو جہاز ‘توسکا’ پر قبضہ

Read Next

پاک-امریکہ ایران مذاکرات: اسلام آباد میزبانی کے لیے تیار، مگر غیر یقینی صورتحال برقرار

Leave a Reply