ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس اہم سمندری راستے کو سخت نگرانی میں لے لیا ہے
خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان کے مطابق، یہ اقدام امریکہ کی جانب سے مسلسل دباؤ اور مبینہ خلاف ورزیوں کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے
حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے پہلے خیرسگالی کے طور پر محدود پیمانے پر تیل بردار اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم بدلتی صورتحال کے باعث اب اس سہولت کو واپس لے لیا گیا ہے
ایرانی افواج نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے اور اس کی نگرانی پہلے سے زیادہ سخت کر دی گئی ہے
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس گزرگاہ میں جہازوں کی نقل و حرکت کو موجودہ حالات سے مشروط کر دیا گیا ہے
انہوں نے واضح کیا کہ اگر مخالف فریق نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو ایران مناسب اور فوری ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے
مزید برآں، ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس وقت کسی نئے معاہدے یا رعایت پر غور نہیں کیا جا رہا اور آبنائے ہرمز بدستور ایران کی نگرانی میں رہے گی
سپاہ پاسداران کی نیول کمانڈ کے مطابق، اب صرف تجارتی جہازوں کو مخصوص راستوں کے ذریعے گزرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ کسی بھی فوجی جہاز کا داخلہ ممنوع رہے گا
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر جہاز کو گزرنے سے قبل متعلقہ حکام سے اجازت لینا لازمی ہوگا
ایرانی حکام کے مطابق، اس سمندری راستے میں آمد و رفت کا مکمل انحصار جنگ بندی کی صورتحال اور فریقین کے طرزِ عمل پر ہوگا
یاد رہے کہ گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹوئٹ کرکے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد جنگ بندی کی باقی ماندہ مدت کے دوران تمام تجارتی بحری بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادی کے ساتھ گزر سکتے ہیں
اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس اقدام پر ایران کا شکریہ ادا کر چکے ہیں
