ترکیہ اور ویتنام کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ استنبول میں بین الاقوامی پارلیمانی یونین کے ایک سو باون ویں اجلاس کی میزبانی کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ویتنام کی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ویتنام میں تعینات ترکیہ کے سفیر کورہان کیمک نے کہا کہ ترکیہ اس اہم عالمی اجلاس کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور اس کی کامیاب میزبانی کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ اجلاس پندرہ سے انیس اپریل دو ہزار چھبیس تک استنبول میں منعقد ہوگا، جس میں دنیا بھر سے دو ہزار تین سو سے زائد مندوبین کی شرکت متوقع ہے، جبکہ نوے سے زائد اسپیکرز اور نائب اسپیکرز بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
سفیر کے مطابق استنبول کو میزبان شہر کے طور پر منتخب کرنا بھی ایک علامتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ شہر مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور براعظموں کو جوڑنے والا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات، بڑھتی کشیدگی اور تنازعات کے پیش نظر عالمی سطح پر تعاون اور باہمی مکالمہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کا مرکزی موضوع امید کو فروغ دینا، امن کو یقینی بنانا اور آئندہ نسلوں کے لیے انصاف فراہم کرنا ہے، جس کے تحت عالمی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا جائے گا۔
سفیر کورہان کیمک نے ویتنام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویتنام نے حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مضبوط بنایا ہے اور امن و ترقی کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ مستقبل میں ویتنام کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر امن اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کر سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ ویتنام کی قومی اسمبلی کے چیئرمین کی ترکیہ آمد نہ صرف عالمی اجلاس میں شرکت کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کا موقع بھی ملے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات انیس سو اٹھہتر میں قائم ہوئے تھے، جس کے بعد سے تجارت، سرمایہ کاری اور پارلیمانی روابط میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سفیر نے مزید کہا کہ اقتصادی میدان میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ ویتنام جنوب مشرقی ایشیا میں ترکیہ کا اہم تجارتی شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ ترکیہ بھی ویتنام میں سرمایہ کاری کرنے والے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
ان کے مطابق سیاحت، زراعت، حلال صنعت، قابلِ تجدید توانائی، معدنی وسائل، بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس، سائنس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے، جہاں دونوں ممالک کی مشترکہ صلاحیتیں نمایاں فوائد فراہم کر سکتی ہیں۔
سفیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانا دونوں ممالک کے تعلقات کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت ویتنام کے شہریوں کے لیے ویزا سہولتوں میں نرمی کی گئی ہے جبکہ استنبول اور ویتنام کے بڑے شہروں کے درمیان پروازوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق استنبول میں ہونے والا یہ عالمی اجلاس نہ صرف عالمی سفارتکاری کے لیے اہم ثابت ہوگا بلکہ ترکیہ اور ویتنام کے درمیان مستقبل میں مزید مضبوط تعاون کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
