turky-urdu-logo

پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات شروع، امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں جاری



اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود کی آمد کے ساتھ اہم سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں دو ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے ابتدائی مذاکرات کی تیاری جاری ہے۔ دونوں فریق مذاکرات سے قبل اپنی اپنی شرائط اور حکمت عملی واضح کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد دونوں رہنماؤں نے الگ الگ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم آفس اور ایرانی ذرائع کے مطابق یہ ملاقاتیں اہم سفارتی عمل کا حصہ تھیں، تاہم دوپہر تک امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

دوسری جانب لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری رہے، جن کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات اسی صورت ممکن ہوں گے جب لبنان میں مکمل جنگ بندی ہو اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔

جاری جنگ نے خطے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران میں کم از کم تین ہزار افراد، لبنان میں ایک ہزار نو سو ترپن، اسرائیل میں تئیس اور خلیجی عرب ممالک میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس جنگ کے باعث خلیج فارس کا عالمی معیشت سے رابطہ بڑی حد تک متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور متعدد ممالک میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں شہریوں نے عالمی خبر رساں اداروں کو بتایا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے محتاط مگر پُرامید ہیں۔ کئی ہفتوں سے جاری فضائی حملوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں شدید تباہی ہوئی ہے۔ ایک شہری نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگرچہ مذاکرات امید کی ایک کرن ہیں، تاہم کسی بھی معاہدے کے پائیدار ہونے پر اب بھی شکوک موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات سے قبل سوشل میڈیا پر متعدد پیغامات جاری کیے، جن میں انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام کے پاس مذاکرات میں استعمال کرنے کے لیے زیادہ مؤثر وسائل موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ عالمی توانائی کی ایک اہم گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کو دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا جبکہ شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی، جس کے باعث مصروف شہر کا منظر کسی حد تک کرفیو جیسا دکھائی دیا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعہ کے روز مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا، تاہم خبردار کیا کہ اگر ایران نے کسی قسم کی چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو امریکی مذاکراتی ٹیم سخت مؤقف اختیار کرے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جو ایرانی وفد کا حصہ ہیں، نے کہا کہ ایران ماضی کے تجربات کی بنیاد پر امریکہ پر مکمل اعتماد نہیں کرتا، تاہم اس کے باوجود مذاکرات میں شامل ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ادھر لبنان کے صدر کے دفتر کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان ممکنہ مذاکرات آئندہ ہفتے واشنگٹن میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری سنبھالے، تاہم اس حوالے سے اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔

موجودہ صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھنے کے اعلان نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جنگ بندی کے اعلان کے دن ہی بیروت پر شدید فضائی حملے کیے گئے، جن میں تین سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جو اس جنگ کا اب تک کا سب سے ہلاکت خیز دن قرار دیا جا رہا ہے۔

جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش ایک اہم حکمت عملی ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی تجارتی جہاز اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے تیل، گیس اور دیگر اہم اشیاء کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر تقریباً ستانوے ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور امن کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اس وقت ان مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان کے نتائج خطے میں امن یا کشیدگی کے آئندہ رخ کا تعین کر سکتے ہیں۔

Read Previous

"میناب 168” نام کیوں رکھا گیا؟ ایرانی وفد نے جنگ کے المناک لمحے کو بنا دیا علامت

Read Next

چین کی جانب سے ایران کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی ممکنہ رپورٹ،چین اور امریکہ آمنے سامنے

Leave a Reply