turky-urdu-logo

پاکستان کی بڑی سفارتی کوشش، امریکہ اور ایران کے براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار

اسلام آباد اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم جنگ بندی مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کے لیے مذاکراتی عمل کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ ملاقاتیں انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات سمجھے جا رہے ہیں۔

روانگی سے قبل جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ اگر ایران نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تو امریکہ بھی کھلے دل کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے، جس میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔ اس موقع پر امریکی وفد کے ساتھ خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی شرکت کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کو آسان بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

اس سے قبل ایرانی وفد نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر علیحدہ ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ جنگ بندی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم اب تک امریکی اور ایرانی وفود کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات ممکن بنائے جا سکیں۔ اطلاعات کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ مذاکرات کا آغاز دونوں وفود کے سربراہان کے درمیان مصافحے سے کیا جائے، یا پھر ایک پاکستانی عہدیدار دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر اس عمل کو ممکن بنائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طے شدہ پروگرام کے مطابق پہلے ایرانی وفد وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا، جس کے بعد امریکی وفد ان سے ملے گا۔ اس کے فوراً بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز متوقع ہے، جو دن بھر جاری رہ سکتے ہیں۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان امریکہ اور ایران کو براہِ راست مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہونے اور امن کی نئی راہیں کھلنے کا امکان ہے۔ بصورت دیگر، مذاکرات بالواسطہ انداز میں ہوں گے اور ممکن ہے کہ یہ عمل محدود وقت تک جاری رہے۔

اس وقت دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں، جہاں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

Read Previous

وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات، خطے میں امن پر زور

Read Next

ایئر فورس ٹو سے "SAM095” تک — وینس کے خفیہ سفر کی دلچسپ تفصیلات سامنے آگئیں

Leave a Reply