استنبول میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد کے باعث پارکنگ کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے، جہاں اوسطاً ہر چھ گاڑیوں کے لیے صرف ایک پارکنگ جگہ دستیاب ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 تک شہر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد 62 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ مجموعی پارکنگ گنجائش صرف تقریباً 11 لاکھ 43 ہزار گاڑیوں تک محدود ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال کے ابتدائی دو ماہ میں ہی 46 ہزار سے زائد نئی گاڑیاں سڑکوں پر آ چکی ہیں، جس سے پہلے سے موجود دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
پارکنگ کی کمی کے باعث شہریوں کو نہ صرف ٹریفک جام کا سامنا ہے بلکہ انہیں اپنی گاڑیاں پارک کرنے کے لیے طویل وقت تک سڑکوں پر گھومنا پڑتا ہے، جو روزمرہ زندگی کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر منظم پارکنگ، ڈبل لائن میں گاڑیاں کھڑی کرنا اور ناکافی سہولیات اس مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
استنبول میونسپلٹی کے مطابق شہر میں ہزاروں پارکنگ مقامات موجود ہیں، تاہم یہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں پارکنگ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے شہری نجی پارکنگ یا غیر قانونی طریقوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
شہر کو گزشتہ برس دنیا کا سب سے زیادہ ٹریفک جام والا شہر قرار دیا گیا تھا، جہاں ڈرائیور سالانہ اوسطاً 118 گھنٹے ٹریفک میں گزارتے ہیں۔ اس صورتحال میں پارکنگ کی تلاش ایک اضافی چیلنج بن چکی ہے۔
کئی علاقوں میں غلط پارکنگ کے باعث نہ صرف ٹریفک متاثر ہوتی ہے بلکہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ جیسی ہنگامی سروسز کی رسائی بھی مشکل ہو جاتی ہے، جو سنگین خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پارکنگ میں اضافہ کافی نہیں، بلکہ ٹریفک مینجمنٹ، شہری منصوبہ بندی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ اس بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پایا جا سکے۔
استنبول میں پارکنگ کا یہ مسئلہ شہری زندگی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
