turky-urdu-logo

اسرائیل کے دو نئے اہداف کون؟ خطے میں کشیدگی میں اضافے کا امکان

خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں مزید دو ممالک شامل ہونے اور جنگ کا سیاسی دباؤ کے باعث مزید پیچیدہ ہونے کا امکان۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے میں متضاد بیانات دے رہے ہیں اور جلد از جلد کسی نتیجے یا کامیابی کے اعلان کی کوشش میں ہیں، تاہم جنگ کی مدت توقع سے بڑھ چکی ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے معاملے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے مختلف آپشنز زیر غور ہیں، مگر بین الاقوامی اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ اس دوران اسرائیل پر بھی دباؤ ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی کے تحت وقت حاصل کرے۔
اسرائیلی قیادت، خطے میں اپنی پالیسی کو آگے بڑھانے کی خواہاں ہے، جس میں لبنان، غزہ اور مغربی کنارے سے متعلق اہداف بھی شامل ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطینی آبادی کی نقل مکانی اور خطے میں جغرافیائی تبدیلیوں جیسے امکانات پر بھی بات ہو رہی ہے، جبکہ لبنان، اردن اور مصر جیسے ممالک کے ساتھ کشیدگی کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

مزید برآں، ایران کے اندر مختلف علاقوں میں سرگرمیوں، سرحدی کشیدگی، اور بعض گروہوں کے متحرک ہونے کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں ماہرین کے مطابق علاقائی اتحادوں، بالخصوص نیٹو جیسے پلیٹ فارمز کی اہمیت میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بڑی طاقتیں اپنی عملی صلاحیت کے لیے اتحادی تعاون پر انحصار کریں گی۔

Read Previous

عالمی آبی بحران کے دوران ترکیہ کا بڑا اقدام، پانی کے ذخائر میں اضافہ اور جدید انفراسٹرکچر سے وسائل کا مؤثر تحفظ

Read Next

شہریوں کو ہراساں کرنے والی کالز اور ایس ایم ایس بند، ترکیہ کا مؤثر اقدام

Leave a Reply