فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس کے موقع پر جرمن وزیر خارجہ یوہان وڈے فل نے تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے نمائندگان کی جلد پاکستان میں ملاقات متوقع ہونے جا رہی ہے۔
جرمن وزیر خارجہ کے مطابق ابتدائی سطح پر پیغامات کے تبادلے کے ذریعے رابطے قائم کیے گئے ہیں جبکہ براہِ راست مذاکرات کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اس عمل میں ایک اہم اور مرکزی مقام اختیار کر چکا ہے۔
جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بات چیت "بہت اچھی جا رہی ہے”۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ واشنگٹن نے پاکستان کے ذریعے تہران کو 15 نکات پر مشتمل ایک فریم ورک بھجوایا ہے، جس پر ایران غور کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے آمادگی کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق تہران امریکی تجاویز کا جواب دے چکا ہے اور اب واشنگٹن کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کی گزرگاہ کی جزوی بحالی کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے، جہاں اسلام آباد ایک متوازن اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت مضبوط بنا رہا ہے۔
