turky-urdu-logo

ترکیہ میں سماجی علوم کے فروغ کے لیے نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف

استنبول میں ایک نئے تعلیمی ڈیجیٹل پلیٹ فارم انسٹی ٹو ڈیجیٹل کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، جسے ادارہ انسٹی ٹو سوشیال نے متعارف کرایا ہے۔ یہ پلیٹ فارم خاص طور پر سماجی علوم کے لیے تیار کردہ اصل تعلیمی مواد فراہم کرتا ہے اور اس کا مقصد علمی معلومات کو ہر فرد تک پہنچانا اور ترکیہ میں پائیدار ڈیجیٹل تعلیمی ماحول کو فروغ دینا ہے۔ پلیٹ فارم کا نعرہ “ترکیہ کی فکری اسکرین” رکھا گیا ہے۔

افتتاحی تقریب استنبول کے پینٹنگ اینڈ اسکلپچر میوزیم میں منعقد ہوئی۔ ادارے کی جنرل کوآرڈینیٹر ایپک جوشکن ارماغان نے تقریب کی افتتاحی تقریر میں بتایا کہ انسٹی ٹو سوشیال 2023 میں ایک تھنک ٹینک کے طور پر قائم ہوا تاکہ سماجی علوم کے شعبے میں اشتراک اور تحقیق کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹو ڈیجیٹل ڈیڑھ سال کی محنت کے بعد عملی شکل اختیار کر چکا ہے اور ادارے کے مشن کو حقیقت کا روپ دیتا ہے۔

ایپک جوشکن ارماغان نے ترکیہ میں سماجی علوم کو درپیش چیلنجز، خاص طور پر تخلیقی مواد کی کمی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ میں مضبوط سماجی و ثقافتی بنیاد موجود ہے، لیکن آن لائن ترکیہ کے مخصوص سماجی مواد تک رسائی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹو ڈیجیٹل کے ذریعے اب سینکڑوں اصلی مواد دستیاب ہیں اور یہ پلیٹ فارم سماجی علوم میں ایک نمایاں قدم ہے۔

انہوں نے مزید کہا: "ہماری سب سے بڑی خواہش ہے کہ انسٹی ٹو ڈیجیٹل ترکیہ میں سماجی زندگی کو مضبوط کرے اور علمی ماحول کو فروغ دے۔”

نون ایجوکیشن اینڈ کلچر فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن اسرا البایراک نے بتایا کہ یہ پلیٹ فارم سماجی علوم میں جمود کو ختم کرنے اور علم کو حقیقی معاشرتی ضروریات کے مطابق ترتیب دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کو سماجی مسائل کے تناظر سے شروع کرنا ضروری ہے تاکہ علم عملی اور اثر انگیز ہو۔

اسرا البایراک نے بتایا کہ انسٹی ٹو سوشیال معاشرے اور سماجی مسائل میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے درمیان شراکت داری قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسٹی ٹو ڈیجیٹل صرف آن لائن مواد کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری پلیٹ فارم ہے جہاں مختلف ممالک اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین مشترکہ مسائل پر تعاون کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: "ہماری سب سے بڑی امید ہے کہ انسٹی ٹو ڈیجیٹل، جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، سماجی زندگی کو مضبوط کرے، مشترکہ فکری بنیاد کو فروغ دے اور اندر سے مسائل کے حل کے لیے ہماری اجتماعی صلاحیت میں اضافہ کرے۔”

اسرا البایراک نے بتایا کہ تیز رفتار سماجی تبدیلی بحران پیدا کر سکتی ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ پلیٹ فارم ہمیں ان حالات میں سکون سے سوچنے اور اپنے لیے علم کے وسائل سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

Read Previous

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ حملے عارضی طور پر روک دیے

Read Next

جنوبی کوریائی شخص نے اسلام قبول کر کے اپنا نام تبدیل کیا اور ترکیہ کی لڑکی سے شادی کر کے محبت اور ثقافتی ہم آہنگی کی مثال قائم کی

Leave a Reply