turky-urdu-logo

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ حملے عارضی طور پر روک دیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہوئے اسے 6 اپریل تک بڑھا دیا ہے، جبکہ ایرانی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت کی درخواست پر توانائی کے منصوبوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی کو 10 دن کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور صورتحال مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر نے ایران کو 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیا تھا، بصورت دیگر توانائی کے مراکز پر حملوں کی دھمکی دی گئی تھی۔ تاہم جاری سفارتی رابطوں کے باعث اس مہلت میں مزید پانچ دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ ایران ایک مضبوط مذاکراتی فریق ہے اور معاہدے کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی غیر یقینی کا اظہار کیا کہ آیا امریکہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچ پائے گا یا نہیں۔

خطے میں کشیدگی 28 فروری کے بعد مزید بڑھ گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے، جن کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کے مطابق اس تنازع کے دوران 13 امریکی اہلکار ہلاک جبکہ تقریباً 290 زخمی ہو چکے ہیں، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ڈیڈ لائن میں توسیع اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور حالات کسی بھی وقت مزید سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

Read Previous

خطے میں امن و اتحاد ضروری، صدر ایردوان کا واضح مؤقف

Read Next

ترکیہ میں سماجی علوم کے فروغ کے لیے نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف

Leave a Reply