ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے حالیہ بیان میں ملکی و علاقائی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے واضح کیا کہ ترکیہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اپنی پالیسیوں پر ثابت قدم ہے۔
ان کے مطابق ترکیہ کی عوام، خواہ وہ کسی بھی سیاسی وابستگی سے تعلق رکھتی ہو، اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ملک ایک اہم اور مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔ موجودہ حالات میں عوام اس بات پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے کہ قیادت مضبوط اور ذمہ دار ہاتھوں میں ہے۔
صدر ایردوان نے عوامی اعتماد کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اس اعتماد کو ہرگز مجروح نہیں ہونے دے گی اور ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود استحکام اور ترقی کا سفر جاری رکھا جائے گا۔
مسجدِ اقصیٰ کے حوالے سے اپنے مؤقف میں انہوں نے زور دیا کہ مسلمانوں کے اس مقدس مقام پر عبادت کے حق کو کسی صورت محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرزِ عمل کو دو ارب مسلمانوں کے عقیدے پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسلامی دنیا سے مؤثر اور متحد ردعمل کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس ضمن میں ترکیہ کی ذمہ داریوں کی ادائیگی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے تمام اقدامات اور بیانیے مسترد کیے جاتے ہیں جو برادر اقوام کے درمیان نفرت کو فروغ دیں یا خطے میں تقسیم پیدا کریں۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی خطے کے عوام اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
صدر ایردوان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ترکیہ اپنے دوست اور برادر ممالک کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ بعض سیاسی عناصر محض تنازعات کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم عوام ایسے طرزِ عمل کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
آخر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ گزشتہ 23 برسوں میں مختلف بحرانوں اور چیلنجز کے باوجود ترکیہ ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کے طور پر ابھرا ہے، جو نہ صرف قائم ہے بلکہ مزید قوت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
