turky-urdu-logo

ایران -پاکستان گیس پائپ لائن, ابھی بھی دیر نہیں ہوئی..

تحریر ۔شبانہ آیاز
shabanaayazpak@gmail.com

انقرہ کی سردیوں میں قدرتی گیس سے گرم ہوتے گھروں کو دیکھ کر، جہاں ایرانی گیس ایک اہم ذریعہ ہے، دل میں ایک ہی سوال اٹھتا ہے کہ یہ سستی اور مستقل گیس پاکستان کو بھی مل سکتی تھی۔۔۔۔۔
ترکیہ میں گیس کی درآمدات متنوع ہیں—روس، آذربائیجان، امریکہ اور دیگر ذرائع سے LNG سمیت—مگر ایران سے آنے والی گیس مشرقی علاقوں کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکتا تھا، صنعتیں چلا سکتا تھا اور عوام کے بوجھ کو کم کر سکتا تھا۔ مگر افسوس کہ یہ خواب امریکی اجارہ داری کے باعث ادھورا رہ گیا۔

ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ جسے "امن پائپ لائن” کا نام دیا گیا، 1989 میں ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی کے ذریعے پیش کیا گیا۔ ساؤتھ پارس کے عظیم گیس ذخائر سے کراچی تک، پھر ملتان تک پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ تھا جو TAPI سے مل کر ایک وسیع گرڈ بناتا۔ 1995 میں ایران اور پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا، 1999 میں ہندوستان بھی شامل ہوا اور 2007 تک قیمتوں پر اتفاق ہو گیا۔ فزیبلٹی رپورٹس تیار تھیں، راستہ طے تھا اور فنانسنگ کے امکانات موجود تھے۔

مگر بیرونی دباؤ نے اسے روک دیا۔ 2005 میں امریکہ نے ہندوستان کو سول نیوکلیئر معاہدہ پیش کیا جس کی شرط ایران سے دوری تھی۔ ہندوستان نے سودا قبول کیا اور 2009 میں پائپ لائن سے نکل گیا۔ آج تک ہندوستان کو نہ ایٹمی ری ایکٹر ملا نہ گیس۔

پاکستان نے 2009 میں معاہدے پر دستخط کیے۔ ایران نے 2012 تک اپنا 1172 کلومیٹر کا حصہ مکمل کر لیا، پائپ بچھا دیئے اور گیس تیار کر کے بارڈر پر منتظر رہا۔
پاکستان کی طرف سے صرف 80 کلومیٹر تک کام ہوا اور پھر "فورس میجور” کا اعلان کر کے امریکی پابندیوں کا حوالہ دیا گیا۔ ایران نے اسے پاکستان کی کمزوری قرار دیا۔ جس کا پیرس کی آربٹریشن کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے جہاں ایران 18 ارب ڈالر کے جرمانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ بوجھ بھی بالآخر پاکستانی عوام پر پڑے گا۔

دوسرے ممالک نے کیا کیا؟ ترکیہ، جو نیٹو کا رکن اور امریکہ کا اتحادی ہے، نے ایران سے براہ راست گیس پائپ لائن بنائی۔ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، ایران سے تقریباً 17% گیس آتی ہے، جو ترکیہ کی توانائی کا ایک اہم حصہ ہے مگر واحد نہیں—روس سے 40% سے کم، آذربائیجان سے 16%، اور LNG (امریکہ سمیت) سے 25% تک۔ یہ پائپ لائن (تبریز-انقرہ) مشرقی اناطولیہ کی ضروریات پوری کرتی ہے، اور ترکیہ اپنی گیس درآمدات کو متنوع بنا رہا ہے تاکہ کسی ایک سپلائر پر انحصار نہ رہے۔ 2026 میں ایران کا معاہدہ ختم ہو رہا ہے مگر ترکیہ اسے جاری رکھنے کی کوشش میں ہے، جبکہ ترکمانستان سے نئی درآمدات شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔

عراق، جہاں امریکی افواج موجود ہیں، ہر سال پابندیوں سے استثنیٰ لے کر ایرانی گیس استعمال کرتا ہے۔ آرمینیا جیسا چھوٹا ملک بھی ایران سے گیس لے رہا ہے۔ پاکستان کے پاس وسائل، ضرورت اور سفارتی تعلقات تھے، مگر فیصلہ سازی کی ہمت نہیں تھی۔

آج دنیا بدل چکی ہے۔ فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اہم شخصیات شہید ہوئیں۔ مگر عالمی ردعمل دیکھیں جرمنی، برطانیہ، فرانس، جاپان اور جنوبی کوریا نے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ یورپی یونین نے شکایت کی کہ ان سے مشورہ نہیں لیا گیا۔ امریکہ کا رعب کم ہو رہا ہے اور سنگل ورلڈ آرڈر کا دور ختم ہو رہا ہے۔ پاکستان نے دو دہائیاں اسی خوف میں ضائع کیں، سستی گیس ٹھکرائی اور صنعتیں تباہ ہوئیں۔

پاکستان کی گیس پیداوار روزانہ تقریباً چار ارب کیوبک فٹ ہے جبکہ طلب چھ سے آٹھ ارب کیوبک فٹ تک ہے۔ یہ خلا LNG کی غیر مستقل اور مہنگی قیمتوں سے پورا کیا جا رہا ہے۔ ایران کی پائپ لائن مستقل، سستی اور قریبی ذریعہ فراہم کر سکتی ہے۔ ایران کا حصہ پہلے سے تیار ہے، پاکستان کو صرف اپنا تقریباً 1100 کلومیٹر کا حصہ مکمل کرنا ہے۔

رکاوٹیں ہیں مگر حل بھی موجود ہیں۔ امریکی پابندیوں کے جواب میں پاکستان عراق کی طرح استثنیٰ مانگے—
آج کی عالمی صورتحال میں یہ پہلے سے آسان ہے۔ 18 ارب کا جرمانہ؟ منصوبہ مکمل کرنے سے جرمانہ ختم ہو سکتا ہے، ورنہ بغیر گیس کے ادا کرنا پڑے گا۔ فنانسنگ؟ چین CPEC کی توسیع کے تحت مدد کر سکتا ہے۔

مئی 2025 میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کا تہران کا سرکاری دورہ اس منصوبے کی بحالی کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ 26 مئی 2025 کو تہران میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کا سعادت آباد محل میں پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل اور جامع ملاقات ہوئی، جس میں ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی طرف سے دو طرفہ تجارت بڑھانے، سرمایہ کاری بڑھانے اور علاقائی امن کی کوششوں پر زور دیا، جبکہ ایرانی صدر نے اس منصوبے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے باہمی مشاورت پر مکمل عزم کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک نے اس ملاقات میں طویل عرصے سے التوا کا شکار گیس پائپ لائن پروجیکٹ کے جلد حل اور اس کی بحالی کا مشترکہ عزم ظاہر کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، اور دونوں فریقین نے توانائی تعاون، سرحدی سلامتی اور علاقائی رابطوں کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ ملاقات نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت دے رہی ہے بلکہ منصوبے کی عملی پیش رفت کے لیے سفارتی بنیاد بھی فراہم کر رہی ہے۔

مارچ 2026 میں بھی دونوں ممالک باہمی مشاورت سے جلد حل کی بات کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان نے 10 سال کی توسیع (2035 تک) مانگی ہے اور ایران منصوبے کو آگے بڑھانے کا خواہشمند ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، پاکستان اور ایران IP گیس پروجیکٹ پر آگے بڑھنے کے لیے سفارتی سطح پر گفتگو جاری رکھے ہوئے ہیں، اور آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔

پاکستان کا اصل بحران وسائل کی کمی نہیں بلکہ قومی مفاد میں فیصلہ کرنے کی ہمت کی کمی ہے۔ ایران نے پائپ بچھا دی، گیس تیار ہے۔ ترکیہ، عراق اور آرمینیا نے فائدہ اٹھایا۔ پاکستان اب بھی انتظار میں ہے کہ بیرونی طاقتیں اجازت دیں۔ ادھر عوام مہنگے گیس بلوں اور لوڈشیڈنگ سے نڈھال ہیں۔

ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ پاکستان کو اپنے عوام کی بہتری کے لیے ہمت دکھانی چاہیے۔ یہ منصوبہ نہ صرف توانائی کا بحران حل کرے گا بلکہ علاقائی امن اور معاشی ترقی کو بھی فروغ دے گا۔ وقت آ پہنچا ہے کہ پاکستان اپنی تقدیر خود سنوارے۔
اور یہ وقت ابھی ہے۔

پارس گیس فیلڈ پر امریکی حملے کے بعد کیا اب بھی ممکن ہے؟
جی ہاں، اب بھی ممکن ہے—اگر پاکستان اور ایران مل کر سفارتی اور قانونی سطح پر کام کریں۔ South Pars پر حالیہ حملوں (مارچ 2026) نے ایران کی گیس پیداوار کو متاثر کیا ہے، مگر یہ فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا ہے اور بحالی ممکن ہے۔ پاکستان کو اب ہمت سے امریکہ سے استثنیٰ مانگنا چاہیے، چین سے فنانسنگ حاصل کرنی چاہیے، اور ایران کے ساتھ معاہدے کو بحال کر کے جرمانے سے بچنا چاہیے۔ مئی 2025 کی تاریخی تہران ملاقات اس کی بنیاد رکھ چکی ہے—اب اسے عملی جامہ پہنانے کا وقت ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی کی خودمختاری اور معیشت کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ بحالی کا وقت اب بھی ہے، زیادہ دیر نہیں ہوئی۔

Read Previous

صدر طیب ایردوان اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ؛ خطے کے حالات اور دو طرفہ تعلقات پر گفتگو

Leave a Reply