turky-urdu-logo

ریاض میں ہنگامی اجلاس؛ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب حاقان فیدان سے اہم ملاقات۔ اجلاس سے قبل ریاض پر میزائل حملہ

ریاض میں سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد ہونے والے عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مابین ہنگامی مشاورتی اجلاس کے موقع پر ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے اہم ملاقات کی۔
ملاقات میں حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین خطے میں جاری کشیدہ حالات کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے اختتام تک پہنچانے پر اتفاقِ رائے پیدا ہوا۔

ایک روز قبل دونوں ہم منصب وزراء نے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور پاکستان کی افغانستان کے خلاف کارروائی کو زیرِ بحث لایا گیا تھا۔ جس کے بعد دونوں ملکوں کی وزارتِ خارجہ کے دفاتر نے یہ اعلامیہ جاری کیا تھا کہ وزیر خارجہ 18 مارچ 2026 کو ریاض میں منعقد ہونے والے اس ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

یہاں اس بات کو زیرِ غور لانا بہت ضروری ہے کہ یہ اجلاس او آئی سی، جی سی سی یا پھر عرب لیگ کے پلیٹ فارم سے نہیں بلایا گیا، بلکہ سعودیہ کی میزبانی میں خصوصی طور پر صرف دس اسلامی ممالک کے وزراء و نمائندگان اس ہنگامی اجلاس میں شریک ہوئے۔ ان ممالک میں ترکیہ، پاکستان، قطر، مصر، شام، اردن، کویت، بحرین، آذربائجان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

اس ہنگامی اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے علاقائی اتحاد کو دیرپا نقصان سے بچانے کے لیے جنگ کے مذاکراتی اور پرامن خاتمے پر اپنا موقف اپنا رہے ہیں۔ جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی تنازعات کے فوری خاتمے کی وکالت کی اور خلیجی ممالک کی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اس موقع پر ایک اور اہم اور تشویش ناک واقعہ پیش آیا۔ بقول سعودی وزارتِ دفاع، میٹنگ سے عین قبل سعودی فضائی دفاعی نظام نے ریاض کی طرف فائر کیے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ بنایا۔ یہ واقعہ امریکی فوجی اثاثوں کی میزبانی کرنے والی خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے والے ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے دوران پیش آیا۔ بہر حال اس حملے کی ایران کی جانب سے فالحال کسی قسم کی کوئی زمہ داری نہیں لی گئی۔

Read Previous

“ امریکی طاقت زوال کے دہانے پر؟ ارب پتی رے ڈالیو کی خطرناک وارننگ”

Leave a Reply