ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے 14 مارچ یومِ طب کے موقع پر ملک بھر کے ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو قوم کے لیے قابلِ فخر قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے افطار پروگرام میں صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے ساتھ شرکت کی اور ان کے ساتھ روزہ افطار کیا۔
صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ ترکیہ کے 81 صوبوں میں خدمات انجام دینے والے تمام ڈاکٹروں، نرسوں، معاون عملے اور نگہداشت فراہم کرنے والوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کی شبانہ روز محنت، خدمات اور قربانیوں پر تہہِ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر اُن طبی اہلکاروں کو سلام پیش کیا جو افطار کے وقت بھی اپنی ڈیوٹی پر موجود رہتے ہیں اور انسانی جان بچانے، علاج فراہم کرنے اور زخمیوں کی دیکھ بھال کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے ہیں۔
صدر نے صحت کے مراکز میں تشدد کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں تشدد کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ ایسے واقعات محدود ہیں، تاہم کبھی کبھار طبی عملے کے خلاف تشدد کے افسوسناک واقعات سامنے آتے ہیں، جن کے سدباب کے لیے حکومت ضروری اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نہ تو علاج کے لیے آنے والے شہریوں کے ساتھ بدسلوکی، تضحیک یا نقصان کو برداشت کرے گی اور نہ ہی صحت کی خدمات فراہم کرنے والے عملے کو تشدد یا توہین کا نشانہ بننے دیا جائے گا۔ صدر رجب طیب ایردوان نے اس معاملے پر شہریوں اور طبی عملے دونوں سے اعلیٰ درجے کی حساسیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی توقع ظاہر کی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے صرف صحت کے نظام کو جدید، مضبوط اور مؤثر نہیں بنایا بلکہ خدمات کی فراہمی کے انداز اور سوچ میں بنیادی تبدیلی لا کر ایک ایسا نیا باب کھولا ہے جو شفاف، معیاری اور عوام دوست نظامِ صحت کی بنیاد بن چکا ہے اور اب کبھی بند نہیں ہوگا۔
تقریب کے اختتام پر صدر رجب طیب ایردوان نے طبی برادری کی خدمات کو ملک کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت صحت کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے اور طبی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
