turky-urdu-logo

ترکیہ کے انٹیلیجنس چیف کی عوام کے درمیان سحری کے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل

(خصوصی رپورٹ : بابر عزیز)

ترکیہ کی حکمران جماعت اَق پارٹی کے بُرسا شہر سے رکنِ پارلیمنٹ اور قومی اسمبلی کی صنعت، تجارت، توانائی، قدرتی وسائل، انفارمیشن اور ٹیکنالوجی سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین مصطفیٰ وارَنک نے 13 مارچ کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے لیے انقرہ میں سحری کی دعوت عام کا اعلان کیا۔ انقرہ کے رہائشی رات گئے دارالحکومت کے دل میں واقع سراچ اوغلو کے علاقے میں سحری کے کھانے کے لیے جمع ہوئے۔
دراصل مصطفیٰ وارَنک طویل عرصے سے ہر سال رمضان المبارک کے ماہ میں بُرسا اور انقرہ کے شہریوں کے لیے سحور کا اہتمام کرواتے ہیں۔
اس مرتبہ بڑی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے اس اجتماع میں حیرت انگیز طور پر ایک پراسرار مہمان بھی تھے۔

رکنِ پارلیمنٹ مصطفیٰ وارَنک کی خصوصی دعوت پر MİT; ملّی استخبارات تشکیلات (نیشنل انٹیلیجنس آرگنائزیشن) کے ڈی جی ڈاکٹر ابراہیم قالِن نے سراچ اوغلو محلے میں منعقدہ اس تقریب کا دورہ کیا اور انقرہ کے شہریوں کے درمیان سحری کی۔
انٹیلیجنس چیف ڈاکٹر ابراہیم قالِن عوام میں گھل مل گئے اور نوجوانوں سے گفتگو بھی کرتے رہے۔ یہ مناظر سوشل میڈیا پر بڑی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ عموماً حساس اداروں کے سربراہان کو یوں عوام کے درمیان نہیں دیکھا جاتا لیکن ابراہیم قالِن نے اس روایت کے خلاف جا کر ترک عوام کے ساتھ تعامل کو ترجیح دی۔

کھانے میں انقرہ کے شہریوں کو ڈونر کباب، کوفتے اور حلوہ پیش کیا گیا۔ رکنِ پارلیمنٹ مصطفیٰ وارَنک نے بذات خود قطار میں کھڑے شہریوں کو کھانا تقسیم کیا۔ اس اجتماع کے خوش گوار ماحول میں شرکت کرنے والے خوب لطف اندوز دکھائی دئیے۔

اس موقع پر ابراہیم قالِن نے کیمروں کے سامنے مختصر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: "کیا ہی خوبصورت جگہ اور کیا ہی خوبصورت ماحول ہے ما شاءاللّٰہ! اللّٰہ ہم سب کو رمضان کی برکات سے ان آخری ایام کو خیر و سلامتی سے اپنانے کی توفیق عطا فرمائے”
رکنِ پارلیمنٹ مصطفیٰ وارَنک نے کہا: "رمضان کا مطلب اتحاد اور یکجہتی یے۔ اس کا مقصد ہے کہ لوگ اکٹھے ہوں، مشترکہ بنیاد تلاش کریں، اور مشترکہ اہداف پر اکٹھے کام کریں۔ رمضان کی روحانیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم نے یہ اجتماع منعقد کیا۔” ڈاکٹر ابراہیم قالِن کی آمد پر ان کا کہنا تھا کہ میں ڈی جی آئی صاحب کا مشکور ہوں کہ وہ اپنی اہم ڈیوٹی پر فائز ہونے کے باوجود، دعوت ملنے پر واپسی کے راستے میں یہاں آئے اور ہم وطنوں سے مصافحہ کیا۔

اجتماع میں شرکت کرنے والے شہریوں میں سے بعض کو اس آمد کی توقع تھی کیونکہ گزشتہ سال بھی مصطفیٰ وارَنک کی دعوت پر ابراہیم قالِن نے انقرہ کی ODTÜ جامع میں منعقد ہونے والے افطار اجتماع میں شرکت کی تھی۔
پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم قالِن نہ صرف اپنے موجودہ فریضے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں بلکہ اس سے قبل وہ رجب طیب ایردوان کے صدارتی ترجمان اور مشیر بھی رہے جبکہ بطورِ سفیر بھی ان کی خدمات ریاست کو حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات بالخصوص اسلامی فلسفے پر ان کی تحریر کردہ کتابیں اور ٹاک شوز میں ان کی گفتگو بھی ترک عوام میں مقبول ہیں۔
2023 میں سابق ڈی جی آئی حاقان فیدان کے وزیر خارجہ تعینات ہونے پر اور ابراہیم قالِن کے بطورِ انٹیلیجنس چیف چارج سنبھالنے کے بعد سے خطے میں ترکیہ کی کامیابیوں کا کریڈٹ بھی ان کو دیا جاتا ہے۔

Read Previous

صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے یومِ طب کے موقع پر طبی عملے کو خراجِ تحسین، افطار پروگرام میں شرکت اور خدمات کا اعتراف

Read Next

ہسپانوی اداکار Javier Bardem کی جنگ مخالف اور فلسطین کے حق میں آواز، تقریب میں خصوصی بیج پہن کر فلسطین سے اظہارِ یکجہتی

Leave a Reply