چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی عرب میں سعودی وزیر دفاع خالِد بن سلمان السعود سے ملاقات میں خلیج میں جاری تنازعہ اور ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی سنگینی پر روشنی ڈالی گئی اور ان حملوں کو روکنے کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال دستخط شدہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلا جواز جارحیت خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے امکانات کو محدود کرتی ہے۔ دونوں فریقین نے امید ظاہر کی ایران حکمت اور فہم کا مظاہرہ کرے گا تاکہ کسی بھی غلط فہمی سے بچا جا سکے اور پرامن حل کی کوششوں میں مدد ملے۔
سعودی وزیر دفاع نے X پر کہا ہے کہ ایرانی حملے خطے کی سیکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور امید ہے کہ ایرانی قیادت دانشمندی کا مظاہرہ کرے گی۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل المدتی اور کثیر الجہتی ہیں، جو عسکری تعاون، اقتصادی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر مبنی ہیں۔ ان تعلقات میں مالی امداد، توانائی کی فراہمی اور دیگر اقتصادی تعاون شامل ہیں، جبکہ سعودی عرب اسلام آباد کے لیے تیل اور مالی معاونت کا اہم ذریعہ ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے ایران کے بڑے حملوں کو سعودی عرب پر روکنے میں مدد دی۔ مزید برآں، پاکستان نے سعودی عرب سے یانبُع کے راستے متبادل تیل کی سپلائی کی فراہمی کی درخواست کی تاکہ ہرمز کی تنگی کے بعد ایندھن کی فراہمی برقرار رکھی جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاض میں “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ” پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی بھی ملک پر حملہ دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
