turky-urdu-logo

” ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہوں جو ایران کی جانب سے نشانہ بنائے گئے” مسعود پژیشکیان

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ہفتے کے روز ایک سرکاری ٹیلی ویژن خطاب میں اعلان کیا کہ ایران کے عبوری قیادت کونسل نے مسلح افواج کو ہدایت دی ہے کہ اب سے کسی بھی ہمسایہ ملک پر حملہ یا میزائل داغنے سے گریز کیا جائے، جب تک کہ وہ خود ایران پر حملہ نہ کریں۔

صدر پیزشکیان نے خطاب کے دوران ہمسایہ ممالک سے معافی بھی مانگی اور وضاحت کی کہ ” ایران کو یہ سب اس لیے کرنا پڑا کیونکہ ہمارے کمانڈر اور رہنما پہلی دن کی امریکی-اسرائیلی جارحیت میں شہید ہو گئے، اور ہمارے مسلح افواج نے اپنی زمین کی حفاظت کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا۔ انہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے وطن کی طاقتور اور باوقار حفاظت کی۔”

انہوں نے کہا کہ یہ اعلان عبوری قیادت کی ہدایات پر مبنی ہے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ ایران کے فوجی کمانڈر جو روایتی طور پر آیت اللہ سے ہدایات لیتے ہیں، اس پر عمل کریں گے یا نہیں۔

ان اقدامات سے لگ تو یہ ہی رہا ہے کہ ایران عبوری قیادت کے تحت خلیجی ممالک کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن عملی طور پر حملے اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے خطے میں صورتِ حال تاحال نازک ہے۔

Read Previous

امریکہ نے روس کی ایران کو انٹیلی جنس فراہم کرنے کی رپورٹس مسترد کر دیں

Read Next

پاک-سعودی عسکری قیادت کی ملاقات: ایرانی حملوں پر مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت

Leave a Reply