turky-urdu-logo

پاکستان ایران اور سعودی عرب کے درمان طویل عرصے تک غیر جانبداری برقرار رکھ پائے گا؟

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے پاکستان کو ایک نہایت حساس سفارتی اور تزویراتی مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ دونوں قریبی شراکت داروں کے درمیان توازن برقرار رکھ سکے۔

گزشتہ برس وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کا دورہ کیا اور وہاں ایرانی صدر مسعود پژیشکیان اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کیں۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور ایران کی خلیجی ممالک پر جوابی کارروائیوں کو بھی "خودمختاری کی خلاف ورزی” قرار دیا۔

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے تہران اور ریاض کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایران کو واضح کیا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ دنیا کے سامنے موجود ہے اور پاکستان اپنے وعدوں پر قائم ہے۔ ایران نے سعودی سرزمین کو کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہ کرنے کی ضمانتیں حاصل کیں، اور سعودی حکام نے ایران کے میزائل حملوں کو محدود کرنے میں پاکستان کی ثالثی کو سراہا۔

ستمبر ۲۰۲۵ میں طے پانے والا اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، اب پاکستان کے لیے آزمائش بن چکا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ پاکستان کی غیر جانبداری کی پالیسی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

پاکستان کے لیے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ ایران کو دشمن کے طور پر نہیں دیکھ سکتا۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعلقات، تجارتی روابط اور سفارتی بات چیت موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں غیر ضروری کشیدگی پاکستان کے قومی مفادات کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ملکی سطح پر بھی اثرات واضح ہیں۔ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے اور کم از کم ۲۳ افراد ہلاک ہوئے۔ ماہرین کے مطابق اگر جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی دوبارہ بھڑک سکتی ہے، خاص طور پر بلوچستان اور شمالی علاقوں میں جہاں پہلے سے سیکورٹی کے مسائل موجود ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے مؤثر اور محفوظ راستہ یہ ہے کہ وہ سفارتی ثالثی کا کردار ادا کرے اور ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھے۔ بعض ماہرین کے مطابق پاکستان سعودی عرب کو محدود یا خفیہ فضائی دفاعی تعاون فراہم کر سکتا ہے، جس سے پاکستان براہِ راست جنگ میں شامل ہوئے بغیر سعودی مفادات کی حمایت کر سکے گا۔

ماہرین کی رائے کے مطابق:

  • عمر کریم: "پاکستان کے لیے سعودی اور ایرانی توازن برقرار رکھنا ایک مشکل مگر ناگزیر تزویراتی اقدام ہے۔”
  • امیر رانا: "ایران کے اثر و رسوخ کے پیش نظر پاکستان کو محتاط رہنا ہوگا، خصوصاً بلوچستان جیسے حساس علاقے میں۔”
  • محمد خطیبی: "اگر پاکستان نے ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کی تو یہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے، جس کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے۔”

فی الوقت پاکستان کی سب سے مضبوط حکمتِ عملی سفارتکاری اور ثالثی ہے۔ دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات اور اعتماد کو محفوظ رکھتے ہوئے پاکستان غیر ضروری فوجی شمولیت سے گریز کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحران بڑھتا ہے اور ایران یا سعودی عرب پاکستان پر دباؤ ڈالیں، تو قومی مفادات کے تحت فیصلہ ممکنہ طور پر سعودی عرب کے حق میں ہو سکتا ہے، مگر اس سے ملک میں داخلی اور اقتصادی خطرات بھی جُڑے ہوں گے۔


Read Previous

ترکیہ نے شام کے صدر کے تحفظ سے متعلق برطانوی خفیہ ایجنسی سے مدد مانگنے کی خبر مسترد کر دی

Read Next

امریکہ نے روس کی ایران کو انٹیلی جنس فراہم کرنے کی رپورٹس مسترد کر دیں

Leave a Reply