turky-urdu-logo

برطانیہ کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں وسیع پیمانے پر تباہی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے مزید میزائل فضا میں ہی ناکارہ بنا دیے ہیں۔ تازہ پیش رفت کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

اس دوران برطانیہ کے وزیرِ اعظم Keir Starmer نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ ان کے مطابق برطانوی فضائیہ کے مزید چار Eurofighter Typhoon جنگی طیارے قطر بھیجے جا رہے ہیں جو وہاں پہلے سے تعینات برطانوی اسکواڈرن کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔

وزیرِ اعظم نے مزید بتایا کہ اینٹی ڈرون صلاحیتوں سے لیس AgustaWestland AW159 Wildcat ہیلی کاپٹر کل قبرص پہنچیں گے، جبکہ برطانوی بحریہ کا جنگی جہاز HMS Dragon (D35) کو بحیرۂ روم میں تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں سکیورٹی اور دفاعی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

کیئر اسٹارمر کے مطابق برطانیہ نے امریکہ کو دفاعی نوعیت کی کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت بھی دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت خطے میں موجود اپنے شہریوں اور اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق خلیجی ممالک میں موجود ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد اب تک اپنی موجودگی حکومت کے ساتھ رجسٹر کروا چکے ہیں، جبکہ انہیں محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

Read Previous

بھارت، اسرائیل اتحاد اور افغانستان

Leave a Reply